بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

فوت شدہ نمازوں کی قضا لازم ہے،یا نہیں؟

فوت شدہ نمازوں کی قضا لازم ہے،یا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ۱۔ ایک مسجد میں وعظ کے دوران سنا ہے کہ قضا نماز پڑھنی ضروری نہیں ہے ،کیوں کہ قضا نماز کے لیے نہ تو قرآن میں ذکر ہے اور نہ ہی کسی حدیث میں ہے ، اس کے متعلق آگاہ کیا جائے کہ نماز قضا یا عمری قضا پڑھنا چاہیے یا نہیں ؟اگر کسی سے نماز قضا ہو جائے تو وہ کیا کرے اس کے لیے کیا حکم ہے حدیث کے مطابق آگاہ کیا جائے؟

۲۔بعض حضرات قضا عمری نماز،بعد نماز فجر اور بعد نماز عصر پڑھتے ہیں، اس وقت پڑھنا چاہیے یا نہیں؟ جب کہ ان اوقات میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے؟

جواب

۱۔ قضا نماز پڑھنا ضروری ہے، مسلم شریف ،( ص٢٣٩، ج١)میں روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”من نسی صلوٰۃ اونام عنھا فکفارتھا ان یصلیھا اذا ذکرھا.” یعنی جس کی کوئی نماز بھول سے یا نیند (کے غلبے)سے رہ جائے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے یاد آنے پر پڑھ لے، دوسری حدیث مسلم شریف کے اسی صفحے پر ہے، جس میں غزوہ خیبر سے واپسی پر رونما ہونے والا واقعہ مفصل مذکور ہے ، خلاصہ یہ کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اﷲ عنہم کی نماز فجر نیند کے غلبے کی وجہ سے رہ گئی تھی جو بعد میں آنکھ کھلنے پر قضا پڑھی گئی، تیسری حدیث غزوہ خندق کا واقعہ ہے کہ جب کفار ومشرکین سے جنگ میں مشغولت کی وجہ سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اصحابؓ کی چند نمازیں قضا ہوئیں تو بعد میں سب نے وہ نمازیں قضا پڑھیں،ان احادیث سے یہ بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ فرض نمازوں کی قضا ویسے ہی فرض ہے جیسا کہ ادا  نمازوں کی، تمام فقہا، محدثین جمہور اہل سنت والجماعت کا اس پر اتفاق ہے، کسی سے بھی اختلاف منقول نہیں۔

شارح مسلم علامہ نوویؒ لکھتے ہیں:”حاصل المذہب انہ اذا فاتۃ فریضۃ وجب قضاھا” (صحیح مسلم ص، ٢٣٨، ج١)۔ یعنی فرض نماز جب فوت ہو جائے تو اس کی قضا واجب یعنی لازمی ہے، صاحب تنویر الابصار،(ص ۶۶،ج ۲)میں لکھتے ہیں:”وقضاء الفرض فرض” یعنی فرض نماز کی قضا فرض ہے۔

لہٰذا اس معاملے میں اختلاف کی گنجائش نہیں، وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں اس کا ثبوت نہیں، تو وہ لوگوں کو خالص گمراہی کی طرف لے جارہے ہیں، ایسے زندیقوں کی ہفوات ماننے سے آخرت خراب ہونے کا اندیشہ ہے،قضاء نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہےکہ اگر یہ معلوم ہے کہ کتنی اور کب سے نمازیں چھوٹی ہیں تو تعین ایام اور اوقات کے ساتھ نماز قضا کریں ،ورنہ تخمینہ کرکے جتنے سالوں کی نماز پڑھنی ہے ،ان کی اس طرح نیت کرے کہ فجر کی جتنی نمازیں میرے ذمے ہیں ،ان میں سے پہلی نماز پڑھتا ہوں، اس طرح روز فجر کی قضا کرتے وقت ،یہی نیت کرے یہاں تک کہ نمازیں پوری ہو جائیں۔

۲۔ نماز فجر ا ورعصر کے بعد قضا نماز پڑھنا جائز ہے۔

''وقضاء الفرض فرض.''( تنویر الابصار، کتاب الصلوٰۃ ٢/٦٦، سعید)

''وجمیع أوقات العمر وقت للقضاء إلا الثلاثۃ المنھیۃ.'' (الدر المختار، کتاب الصلوٰۃ ٢/٦٦، سعید)

''ویجوز قضاء الفوائت فی أیّ وقت شاء الافی ثلاث ساعۃ، لایجوز التطوع ولا تجوز المکتوبۃ.'' (فتاویٰ قاضی خان، کتاب الصلوٰۃ، باب الأذان ۱/۷۴، رشیدیۃ)

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت".(الدر المختار وحاشية ابن عابدين : 2/ 76).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی