سنتوں کے دوران جماعت کھڑی ہوجائےتو کیا کیا جائے؟

سنتوں کے دوران جماعت کھڑی ہوجائےتو کیا کیا جائے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نماز فجر سے قبل دو سنت نماز ظہر کے قبل اور خطبہ جمعہ سے قبل چار سنت کی اگر نیت کی ہوئی ہے اور پڑھ رہا ہے، مگر نماز فرض شروع ہو گئی یا خطبہ جمعہ شروع ہو گیا تو جس نمازی نے سنتیں شروع کی ہیں وہ کیا کرے؟ نماز توڑ دے یا جاری رکھے؟ اس طرح عصر اور عشا کی سنتوں کا کیاحکم ہے؟

جواب

اگر سنتوں کی ادائیگی کے درمیان جماعت کھڑی ہوجائے تو سنتیں پوری کرکے پھر جماعت میں شریک ہونا چاہیے اور اگر دو  رکعت پر سلام پھیر کر جماعت میں شریک ہو جائے تو یہ بھی جائز ہے، لیکن پہلی صورت اختیار کرنا بہتر ہے۔

"و لو شرع في التطوع ثم أقيمت المكتوبة أتم الشفع الذي فيه و لايزيد عليه، كذا في محيط السرخسي.ولو كان في السنة قبل الظهر والجمعة فأقيم أو خطب يقطع على رأس الركعتين يروى ذلك عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - وقد قيل: يتمها، كذا في الهداية وهو الأصح، كذا في محيط السرخسي وهو الصحيح، هكذا في السراج الوهاج." (الفتاوى الهندية : 1/ 120)

"(والشارع في نفل لا يقطع مطلقا) ويتمه ركعتين (وكذا سنة الظهر و) سنة (الجمعة إذا أقيمت أو خطب الإمام) يتمها أربعا (على) القول (الراجح) لأنها صلاة واحدة، وليس القطع للإكمال بل للإبطال خلافًا لما رجحه الكمال." (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : 2/ 53).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی