بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنتوں کی نیت کا طریقہ

سنتوں کی نیت کا طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی سنت کی نیت اس طرح کرتا ہے کہ سنت رسول اﷲکی پڑھتا ہوں، کیا اس طرح نیت کرناجائز ہے؟ نماز درست ہو گی کہ نہیں ،اگر درست نہیں تو پھر نیت کس طرح کی جائے؟

جواب

نیت درحقیقت فعل قلب ہے ،اس لیے اگر کوئی دل سے نیت کرے اور زبان سے کچھ نہ کہے تب بھی نماز ہو جائے گی، لیکن اگر دل سے نیت نہ کرے اور زبان سے ایک مفصل عبارت پڑھ لیا کرے تب بھی نماز نہ ہوگی، اس لیے بہتر ہے کہ دل کی نیت کے ساتھ زبان سے بھی مختصرالفاظ کہہ دے،مثلاً سنت فجر اور سنت کے ساتھ لفظ رسول اﷲ بڑھانا بہتر تو نہیں، لیکن اگر کوئی بڑھائے تو ناجائز بھی نہیں ہے ،کیوں کہ اس جملے سے مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ سنت نص قرآن سے اگرچہ ثابت نہیں ،مگر طریقہ رسول اﷲہے اس لیے پڑھتا ہوں۔

"وکفی مطلق نیة الصلاة وإن لم یقل: للہ، لنفل وراتبة وتراویح علی المعتمد؛ إذ تعیینھا بوقوعھا وقت الشروع، والتعیین أحوط، ولا بد من التعیین عند النیة……لفرض أنہ ظھر أو عصر…ولو الفرض قضاء……وواجب أنہ وتر أو نذر أو سجود تلاوة… دون تعیین عدد رکعاتہ لحصولھا ضمناً فلا یضر بالخطإ في عددھا وینوي المقتدي المتابعة الخ ".(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ۲: ۹۴- ۹۸، ط مکتبة زکریا دیوبند).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی