بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سجدہ سہو کے بعد دوبارہ سہو ہوجائے تو کیا حکم ہے؟

سجدہ سہو کے بعد دوبارہ سہوہوجائے تو کیا حکم ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نماز ادا کرتے ہوئے مجھ سے غلطی ہو گئی جس کی بنا پر اخیر میں سجدہ سہو کرنا پڑا، لیکن بدقسمتی سے بے خیالی کی وجہ سے سجدہ سہو کے قعدہ میں سورہ فاتحہ شروع کر دی، جس کا خیال آتے ہی فوراً میں نے تشہد پڑھنا شروع کر دیا، اب اس قسم کی غلطیوں کا کفارہ کیا ہے؟

جواب

پہلا سجدہ سہو کافی ہے،دوبارہ سجدہ سہو کی ضرورت نہیں،بس جب یاد آئے تو التحیات پڑھ کر سلام پھیردیجیے۔

"وفي البحر: لو سها في سجود السهو لايسجد لهذا السهو. وفي المضمرات: لو سها في سجود السهو عمل بالتحري ولايجب عليه سجود السهو؛ لئلايلزم التسلسل؛ ولأنه يغتفر في التابع ما لايغتفر في المتبوع". حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح:ص: 460).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی