بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ستونوں کے درمیان صف بنانے کا حکم

ستونوں کے درمیان صف بنانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ جامع مسجد میں جو ستون  ہوتے ہیں ان ستونوں کے درمیان میں صف بندی جائز ہے یا نہیں؟ اور اس سے صحتِ نماز پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ ہم چاہتے ہیں کہ شریعت کے مطابق فیصلہ ہو جائے؟

جواب

مذکورہ مسجد اگر کشادہ ہوتو ستونوں کے درمیان صف بندی کی ضرورت نہ ہو تو ستونوں  کے درمیان صف نہ بنانا بہتر ہے اور اگر مسجد تنگ ہے تو ستونوں کے درمیان صف بندی بلاکراہت جائز ہے اور اس سے نمازکی صحت  پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

"والاصطفاف بين السطوانتين غير مكروه؛ لأنه صف في حق كل فريق وإن لم يكن طويلاً، وتخلل الأسطوانة بين الصف كتخلل متاع موضوع أو كفرجة بين رجلين، وذلك لايمنع صحة الاقتداء، ولايوجب الكراهة". (المبسوط للإمام السرخسي، كتاب الصلوة، باب الجمعة 2/54 ط: كوئته)

"عن عبدالحميد بن محمود قال: صلينا خلف أمير من الأمراء فاضطرنا الناس، فصلينا بين الساريتين، فلما صلينا، قال أنس بن مالك رضي الله عنه: كنا نتقي على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقد كره قوم من أهل العلم أن يصف بين السواري ... وقد رخص قوم من أهل العلم في ذلك". (جامع الترمذي، كتاب الصلوة، باب ما جاء في كراهية الصف بين السواري 1/53 ط: سعيد).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی