بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دو طلاق بائن کے بعد رجوع کی صورت

دو طلاق بائن  کے بعد رجوع کی صورت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح 14-12-2020، کو زید  کے ساتھ ہوا اور نکاح کے بعد ہمیں ترکی منتقل ہونا تھا ،لیکن کرونا کے باعث ہم منتقل نہ  ہو سکے اور اسی دوران میرے شوہر کی نوکری بھی چلی گئی،یہ بات واضح رہے کہ نکاح کے بعد میری رخصتی نہیں ہوئی تھی،کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہمارے آپس میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے، اسی طرح کے اختلافات کے چلتے ایک مہینے کےبعد 04-01-2022ء کو ان کے منہ سے میرے لئے ” طلاق ہے” کے الفاظ لکھے، اس کے بعدانہوں نے فورا ہی رجوع کر لیا، رجوع کے بعد بھی اسی طرح کے اختلافات برقرار رہے اور پھر تقریبا دو ماہ  بعد انہوں نے مجھے غصے کی حالت میں فون پر ” میں طلاق دیتا ہوں” کے الفاظ بولے اس کے بعد میں نے فون کاٹ دیا بعد میں رابطہ ہوا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے مزید کوئی الفاظ نہیں بولے، پھر انہوں نے دو دن بعد گھر آگر رجوع کرلیا،سب نے ان کو سمجھایا پھر بھی ہمارے درمیان اختلافات برقرار رہے، لیکن انہوں نے پھر طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا، ملازمت نہ ہونے کی وجہ سے وہ رخصتی میں بہت تاخیر کر رہے تھے، اس عرصے میں کبھی کبھار ہماری بات ہوتی رہتی تھی،پھر میں نے جولائی 2022ء میں عدالت میں خلع کی درخواست دائر کردی، ہم دونوں عدالت میں حاضر ہوئے، میں نے جج صاحب سے خلع کی درخواست کی لیکن وہ مسلسل انکار کرتے رہے، لیکن جج صاحب نے میرے اصرار پر میرے حق میں خلع کا فیصلہ سنادیا، لیکن فیصلے کے بعد بھی ہمارا رابطہ رہا اور اب وہ دوبئی چلے گئے ہیں وہ مجھے لے کر جانا چاہتے ہیں تا کہ ہم اپنی ازدواجی زندگی شروع کر سکیں،براہ کرم میری شریعت کی رو سے راہنمائی فرمائیں کہ کیا میرا نکاح باقی ہے ؟ کیا اس طرح خلع لینا درست ہے؟ کیا دوسری طلاق کے بعد رجوع کرنا درست تھا؟

وضاحت: اسامہ عارفی صاحب کے واسطے سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ نکاح کے بعد مروجہ رخصتی نہیں ہوئی تھی، مگر پہلی طلاق سے پہلے خلوت صحیحہ ہوئی تھی، یعنی دونوں کی ملاقات ایسی تنہائی میں ہوئی تھی کہ اس میں یہ دونوں ہمبستری کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے، مگر ہمبستری کی نہیں تھی، پہلی طلاق کے بعد رجوع ہوئی تھی، اور دوسری طلاق سے پہلے دونوں ہمستری بھی کر چکے تھے۔

جواب

واضح رہے کہ مذکورہ تنہائی کے بعد (ہمبستری سے پہلے)طلاق دینے سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے،اس میں رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ جانبین کی رضا مندی سے تجدید نکاح ہو،مگر اس صورت میں اگر شوہر طلاق دے تو دوسری طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے،اس کے بعد تجدیدنکاح لازم ہے،لہذا صورت مسئولہ میں دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،پہلی طلاق بائن کےبعد بغیر تجدید نکاح کے جو ہم بستری ہوئی ہے،اس پر توبہ و استغفار کریں،اور دوسری طلاق بائن کے بعدجب تک تجدید نکاح نہ ہو اس وقت تک ازدواجی تعلق قائم رکھنا گناہ ہے،اگر آپ سابق شوہر سے ازدواجی تعلق رکھنا چاہتی ہیں،تواس کے لئے نئے سرے سے نکاح کریں ،اور اس میں شوہر کو ایک ہی طلاق کا اختیار ہوگا ،اور اگر آپ راضی نہیں ہیں تو کہیں اور شادی کرنا شرعا درست ہے،باقی خلع عدت کےبعد واقع ہونے  سے مزید کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے۔

لما في رد المحتار:

 في البزازية: والمختار أنه يقع عليها طلاق آخر في عدة الخلوة، وقيل:لا اه ...والحاصل أنه إذا خلا بها خلوة صحيحة ثم طلقها طلقة واحدة فلا شبهة في وقوعها...والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول... وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا... وإذا كان الأول لا تعقبه الرجعة يلزم كون الثاني مثله اه.ثم ظاهر إطلاقهم وقوع البائن أولا وثانيا كان بصريح الطلاق.(كتاب النكاح،مطلب في أحكام الخلوة:4/248،رشيدية)

وفيه أيضا:

إذا لحق الصريح البائن كان بائنا، لان البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة.(كتاب الطلاق،مطلب:الصريح يلحق الصريح والبائن:4/528 ،  رشيدية)

وفي البحر الرائق:

لا رجعة له بعد الطلاق الصريح بعد الخلوة وأما في حق وقوع طلاق آخرففيه روايتان ،والأقرب إلى الصواب الوقوع.(كتاب النكاح،باب المهر:3/271،رشيدية)

و في بدائع الصنائع:

فالحكم الأصلي...من الواحدة البائنةوالثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا،حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد.(كتاب الطلاق،فصل في حكم الطلاق البائن:3/57،دار الكتب العلمية)

وفي الدر مع الرد:

(وشرطه[الخلع] كالطلاق) وأما ركنه :فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول.(باب الخلع :5/89، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 176/119