بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دفتر میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم

دفتر میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ حضرت میں سرکاری محکمہ میں کام کرتاہوں۔ ہمارے آفس میں مستقل مسجد نہیں ہے۔ ایک ہال ہے اس میں صرف ظہر کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ ہمارے آفس سے کچھ فاصلے پر ایک مسجد بھی ہے۔ بعض لوگ ظہر اور جمعہ پڑھنے اس مسجد میں جاتے ہیں۔ لیکن وہ مسجد بہت چھوٹی ہے۔ تقریبا 100 افراد کی گنجائش ہے اس میں۔ اس مسجد میں پہلے صرف ۵ وقت نماز ہوتی تھی، اب وہاں بھی جمعہ شروع ہوگیا ہے،کچھ عرصہ پہلے ہمارے آفس کے ہال میں نماز جمعہ ادا ہونا شروع ہوگئی ہے، دفتر کا ایک دیندار ملازم جو کہ قاری بھی ہے، امامت کراتے ہیں۔

۱۔ کیا اس طرح دفتر میں نماز جمعہ شریعت کی رو سے صحیح ہے؟

۲۔ کیا دفتر میں ظہر کی نماز باجماعت کا ثواب ملے گا؟

۳۔ دفتر میں ظہر کی نماز زیادہ بہتر ہے یا قریب والی مسجد میں؟

۴۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دفتر میں ۵ وقت با جماعت نماز نہیں ہوتی، اس لیے جمعہ صحیح نہیں ہے،کیا حکم ہے؟

جواب

(۱-۴) صورت مسئولہ میں دفتر میں نماز جمعہ پڑھنا درست ہے، اس کے لیے نہ مسجد کا ہونا شرط ہے اور نہ پانچ وقت نماز با جماعت اس میں پڑھنا شرط ہے۔

(۲،۳) واضح رہے کہ دفتر میں جس جگہ نماز ادا ہوتی ہے وہ جائے نماز کے حکم میں ہے، مسجد کے حکم میں نہیں، اس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب تو مل جائے گا،مگر مسجد کا نہیں، مسجد چوں کہ قریب ہے، اس لیے مسجد میں نماز ادا کی جائے۔

لما في الحلبي الكبيري:

ولو اتخذ في بيته موضعا للصلاة فليس له حكم المسجد أصلًا.(فصل في أحكام المسجد، الفصل الثالث في مسائل متفرقة: 530، م: نعمانيه كوئته)

وفيه أيضًا:

وفي الفتاوى الغياثية وصلى الجمعة في قرية بغير مسجد جامع والقرية الكبيرة لها قرى وفيها والٍ وحاكم جازت الجمعة بنو المسجد أو لم يبنوا، وهو قول أبي القاسم الصغار، وهذا أقرب الأقاويل إلى الصواب والمسجد الجامع ليس بشرط وهذا أجمعوا على جوازها بالمصلى في فناء المصر.(فصل في صلاة الجمعة: 474، م: نعمانية كوئته)

وفي تبيين الحقائق:

والحكم غير مقصور على المصلى بل يجوز في جميع أفنية المصر. (كتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة: 1/525، دار الكتب العلمية بيروت).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 154/188،189