بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

داڑھی منڈےکی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم

داڑھی منڈےکی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں ایک قاری صاحب ہیں ،وہ ہمارے یہاں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ،انہوں نے انگریزی تعلیم زیادہ حاصل کی ہے ،لیکن داڑھی منڈاتے ہیں اور مونچھ زیادہ رکھتے ہیں،اکثر ہماری مسجد میں امامت بھی کرتے ہیں، لیکن لوگوں کا ان پر اعتراض ہے،اب ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے کہ نہیں ؟اور لوگوں کی سابقہ نمازیں اور جنازے ہو جائیں گے، جو کہ ان قاری صاحب نے پڑھائے ہیں، یہ واضح رہے کہ قاری صاحب اپنی  داڑھی بالکل چھوٹی کر دیتے ہیں، قرآن وحدیث کی روشنی میں  مسئلہ کو واضح کریں۔

جواب

داڑھی رکھنا انبیاء کرام کی سنت میں سے ہے اور علماء کرام نے واجب کہا ہے (بخاری شریف ج٣ ص٨٧٥) لہٰذا ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ داڑھی کا بڑھانا سنت انبیاء ہے اور ان کا کتروانا او ر مونڈوانا سنت نبوی کے خلاف ہے ، بلکہ یہ دوسرے گناہوں سے بھی بدتر ہے، اس لیے کہ اس کے اعلانیہ ہونے کی وجہ سے اس میں دین اسلام کی کھلی توہین ہے اور اﷲاور اس کے رسول سے بغاوت کا اعلان ہے،اس لیے فقہاء کرام نے فیصلہ کیا ہے کہ جو شخص رمضان میں اعلانیہ کھائے پئیے وہ واجب القتل ہے ،کیوں کہ وہ کھلے طور پر شریعت مطہرہ کی مخالفت کرہا ہے،دوسری چیز داڑھی کاٹنے کا گناہ ہر وقت ساتھ لگا ہوا ہے، سو رہا ہے تب بھی گناہ ساتھ ہے ،حتی کہ نماز وغیرہ عبادت میں مشغول ہونے کی حالت میں بھی اس گناہ میں مبتلا ہے، اس کو سب دیکھ رہے ہیں غرض یہ ہے کہ داڑھی کتروانا اور داڑھی منڈانے والا فاسق ہے اور یہ بغاوت اسلام ہے ،لہٰذا اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، محلہ والوں کے لیے ضرور ی ہے کہ اس کو معزول کرکے شریعت کے مطابق چلنے والے کو امام بنایا جائے اور جن نمازوں کو اس کے پیچھے پڑھ لیا اس کو لوٹا نے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن آئندہ اس کے پیچھے نماز نہ پڑھے اﷲ ہم سب کو اس قسم کے گناہ سے بچائے رکھے۔ آمین

''عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ، یَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: " کُلُّ أُمَّتِی مُعَافًی إِلَّا المُجَاہِرِینَ.'' (بخاری، کتاب الأدب، باب ستر المومن علی نفسہ،١٠٥٩،دارالسلام، ریاض)

 (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) …(وأعرابي) ومثله تركمان وأكراد وعامي (وفاسق وأعمى) ونحوه الأعشى نهر (إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى. (الدر المختار:1 / 559)

"(قوله وكره إمامة العبد والأعرابي والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزنا) بيان للشيئين الصحة والكراهة أما الصحة فمبنية على وجود الأهلية للصلاة مع أداء الأركان وهما موجودان من غير نقص في الشرائط والأركان ومن السنة حديث «صلوا خلف كل بر وفاجر". (البحرالرائق،:1/ 369، ط: دارالكتاب الاسلامي)

"أمّ الفاسق يوم الجمعة ولم يمكن منعه قال بعضهم يقتدى به ولا تترك الجمعة بإمامته وفيه أثر ابن عمر رضي الله عنهما وفي غير هاله أن يتحول إلى مسجد آخر والمصلى خلف مبتدع أو فاسقٍ ينال ثواب الجماعة لكن لا كمن صلى خلف تقي".(الفتاوى البزازية:1 / 26).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی