بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جماعت شروع ہوجانے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا حکم

جماعت شروع  ہوجانے کے بعد فجر کی سنت پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ فجر کی دور کعت سنت مؤکدہ جماعت کھڑی ہو جانے کی صورت میں ادا کرسکتا ہے؟ او راگر جماعت کے آخری قعدہ میں شرکت ہو اور سنتیں رہ جائیں تو اس کی ادائیگی کی صورت کیا ہوگی؟

جواب

دوسری رکعت ملنے کے امید ہے تو سنت پڑھ لے ،ورنہ سنت ترک کرکے جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے، اگر فجر کی سنتیں رہ جائیں تو طلوع آفتاب کے بعد ان کو قضاء کیاجاسکتا ہے۔

''(وَإِذَا خَافَ فَوْتَ) رَکْعَتَیْ (الْفَجْرِ لِاشْتِغَالِہِ بِسُنَّتِہَا تَرَکَہَا) لِکَوْنِ الْجَمَاعَۃِ أَکْمَلَ (وَإِلَّا) بِأَنْ رَجَا إدْرَاکَ رَکْعَۃٍ فِی ظَاہِرِ الْمَذْہَبِ. وَقِیلَ التَّشَہُّدُ وَاعْتَمَدَہُ الْمُصَنِّفُ وَالشُّرُنْبُلالی تَبَعًا لِلْبَحْرِ، لَکِنْ ضَعَّفَہُ فِی النَّہْرِ (لَا) یَتْرُکُہَا بَلْ یُصَلِّیہَا عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ إنْ وَجَدَ مَکَانًا وَإِلَّا تَرَکَہَا لِأَنَّ تَرْکَ الْمَکْرُوہِ مُقَدَّمٌ عَلَی فِعْلِ السُّنَّۃِ.'' (الدر المختار، باب إدراک الفریضۃ، ٢/٥٦،٥٧، سعید)

''عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَمْ یُصَلِّ رَکْعَتَیِ الفَجْرِ فَلْیُصَلِّہِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ.''(جامع الترمذی،١/٩٦، سعید)

''وَمَا إذَا فَاتَتْ وَحْدَہَا فَلَا تُقْضَی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِالْإِجْمَاعِ، لِکَرَاہَۃِ النَّفْلِ بَعْدَ الصُّبْحِ. وَأَمَّا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَکَذَلِکَ عِنْدَہُمَا. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَحَبُّ إلَیَّ أَنْ یَقْضِیَہَا إلَی الزَّوَالِ.''(رد المحتار،٢/٥٧، کتاب الصلوٰۃ، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی