بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تہجد، اشراق ،چاشت اور اوابین کے ابتدائی اور انتہائی اوقات

تہجد، اشراق ،چاشت اور اوابین کے ابتدائی اور انتہائی اوقات

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نماز کے اوقات سے تو الحمد ﷲ بخوبی واقف ہوں مگر نوافل اوقات میں لاعلمی کی وجہ سے اکثر پریشانی ہوتی ہے ،مہربانی فرماکر تہجد، اشراق ، چاشت اور اوّابین کے ابتدائی او رانتہائی اوقات تحریر کر دیں ،سورج نکلنے کے بعد منٹوں اور گھنٹوں وغیرہ کے حساب لکھیں گےتو آسانی  ہو گی، ورنہ سوانیزے او رہاتھ کی بلندی یا سایے کا دوگنا ہونایہ عام آدمی کی سمجھ میں نہیں آتا،امید ہے آپ عوام کے فائدہ کے لیے زحمت کو برداشت کر لیں گے۔

جواب

تہجد کی نماز کا ابتدائی وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے ،افضل وقت آخیر الیل ہے، آخر وقت طلوع صبح صادق سے پہلے تک رہتا ہے اور اشراق کی نماز کا وقت اس وقت شروع ہے جب سورج نکل کر اچھی طرح بلند ہوجائے تقریبا دس،بارہ منٹ گزرجائیں(بحوالہ نمازمسنون، مطبوعہ مکتب دروس القرآن)

اور چاشت کا وقت سورج کے بلند ہونے کے بعد سے زوال سے پہلے تک ہوتا ہے، افضل یہ ہے کہ جب دن کا چوتھائی حصہ گزر جائے تقریباً دس ساڑھے دس کا ٹائم ہوتا ہے، موسم کے بدلنے سے گھنٹہ آدھا فرق آتا رہتا ہے اور اوابین جو کہ مغرب کے بعد ہوتے ہیں ان کا مغرب کی نماز کے بعد سے ابتدائی وقت ہوتا ہے،انتہائی وقت عشاء کے داخل ہونے تک رہتا ہے۔

''وَمَا کَانَ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَاء ِ فَہُوَ مِنْ اللَّیْلِ وَہَذَا یُفِیدُ أَنَّ ہَذِہِ السُّنَّۃُ تَحْصُلُ بِالتَّنَفُّلِ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَاء ِ قَبْلَ النَّوْمِ.''(رد المحتار، مطلب فی صلاۃ اللیل،٢/٢٤، سعید)

''(وَ) نُدِبَ (أَرْبَعٌ فَصَاعِدًا فِی الضُّحَی) عَلَی الصَّحِیحِ مِنْ بَعْدِ الطُّلُوعِ إلَی الزَّوَالِ وَوَقْتُہَا الْمُخْتَارُ بَعْدَ رُبُعِ النَّہَارِ.''(الدر المختار، مطلب سنۃالضحی،٢/٢٢،سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی