بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ترک سنن و مستحبات پر سجدہ سہوکرنے کا حکم

ترک سنن و مستحبات پرسجدہ سہوکرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا  اگر ایک آدمی نماز میں سنت یا مستحب کے ترک ہونے پر سجدہ سہوکرتا ہے، تو کیا واجب کے ترک کے بغیر اگر سجدہ سہو کرتا ہے، تو اس سے نماز میں کچھ خرابی واقع ہو گی،یا نہیں؟

جواب

سجدہ سہو صرف ترک واجب پر ہوتا ہے ،ترک سنت ومستحب پر نہیں ہے ،ہدایہ میں باب سجود السہو میں لکھا ہے کہ سجدہ سہو صرف ترک واجب پر واجب ہوتا ہے،اس کی کوئی مسنون قسم نہیں ہے کہ ترک سنت پر مسنون ہو، یا ترک مستحب پر مستحب ہو ،اورنماز کو ایسے افعال سے بچانا ضروری ہے کہ جو فرائض، واجبات ،سنن ومستحبات کے قبیل سے نہ ہوں۔

''وَلَا یَجِبُ السُّجُودُ إلَّا بِتَرْکِ وَاجِبٍ أَوْ تَأْخِیرِہِ أَوْ تَأْخِیرِ رُکْنٍ أَوْ تَقْدِیمِہِ أَوْ تَکْرَارِہِ أَوْ تَغْیِیرِ وَاجِبٍ بِأَنْ یَجْہَرَ فِیمَا یُخَافَتُ وَفِی الْحَقِیقَۃِ وُجُوبُہُ بِشَیْء ٍ وَاحِدٍ وَہُوَ تَرْکُ الْوَاجِبِ، کَذَا فِی الْکَافِی.'' (الھندیۃ، الباب الثانی عشر فی سجود السھو، ١/١٢٦،رشیدیۃ)

''(وَلَا یُصَلَّی عَلَی النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - فِی الْقَعْدَۃِ الْأُولَی فِی الْأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّہْرِ وَالْجُمُعَۃِ وَبَعْدَہَا) وَلَوْ صَلَّی نَاسِیًا فَعَلَیْہِ السَّہْوُ.''(الدر المختار، باب الوتر والنوافل،٢/١٦،سعید)

''وَلَوْ کَرَّرَ التَّشَہُّدَ فِی الْقَعْدَۃِ الْأُولَی فَعَلَیْہِ السَّہْوُ وَکَذَا لَوْ زَادَ عَلَی التَّشَہُّدِ الصَّلَاۃَ عَلَی النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ -، کَذَا فِی التَّبْیِینِ وَعَلَیْہِ الْفَتْوَی.''(الھندیۃ الباب الثانی عشر فی سجود السھوئ،١/١٢٧،رشیدیۃ)

''وَلَوْ قَرَأَ الْفَاتِحَۃَ ثُمَّ السُّورَۃَ ثُمَّ الْفَاتِحَۃَ لَا سَہْوَ عَلَیْہِ کَذَا فِی الظَّہِیرِیَّۃِ وَہَکَذَا فِی التَّجْنِیسِ وَہُوَ الْأَصَحُّ.'' (الھندیۃ، ١/١٢٦، رشیدیۃ)
''(وَیَسْجُدُ لِلسَّہْوِ وَلَوْ مَعَ سَلَامِہِ) نَاوِیًا(لِلْقَطْعِ) لِأَنَّ نِیَّۃَ تَغْیِیرِ الْمَشْرُوعِ لَغْوٌ(مَا لَمْ یَتَحَوَّلْ عَنْ الْقِبْلَۃِ أَوْ یَتَکَلَّمْ)(سَلَّمَ مُصَلِّی الظُّہْرِ) مَثَلًا(عَلَی) رَأْسِ (الرَّکْعَتَیْنِ تَوَہُّمًا) إتْمَامَہَا (أَتَمَّہَا) أَرْبَعًا(وَسَجَدَ لِلسَّہْوِ)لِأَنَّ السَّلَامَ ساھیاً لا یبطل؛ لأنہ دعا من وجہ.''(الدرالمختار،کتاب الصلوٰۃ،باب سجود السھو ٢/٩١،سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی