بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنے کا حکم

ایک وضو سے متعدد نمازیں پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے ایک نماز کے لیے وضو کیا، کیا اسی وضو سے دوسری نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے؟

جواب

ہاں! ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں، البتہ اگر کوئی آدمی معذور ہے، یعنی مثلاً :سلسل البول وغیرہ کی بیماری ہے، تو پھر ہر وقت کے لیے الگ وضو کرنا ہو گا۔

"وإنما یستحب الوضوء إذا صلی بالوضوء الأول صلاة، کذا فی الشرعة والقنیة. اہ. وکذا ما قالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیر للسیوطی عند حدیث من توضأ علی طہر کتب لہ عشر حسنات من أن المراد بالطہر الوضوء الذی صلی بہ فرضا أو نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر وہو ابن عمر، فمن لم یصل بہ شیئا لا یسن لہ تجدیدہ. اہ. ومقتضی ہذا کراہتہ، وإن تبدل المجلس ما لم یؤد بہ صلاة أو نحوہا لکن ذکر سیدی عبد الغنی النابلسی أن المفہوم من إطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاة أو مجلس آخر، ولا إسراف فیما ہو مشروع، أما لو کررہ ثالثا أو رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکر، وإلا کان إسرافا محضا اہ فتأمل․" (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 241،ط: زکریا).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی