بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسٹیشن، ائیرپورٹ اور بس اسٹاپ پر قصر نماز پڑھنے کا حکم

اسٹیشن، ائیرپورٹ اور بس اسٹاپ پر قصر نماز پڑھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اسٹیشن، ایئرپورٹ، بس اڈے پر نماز قصر پڑھیں گے،یا مکمل؟

جواب

اسٹیشن، ایئرپورٹ، بس اڈہ، اگر حدودشہر سے متصل ہیں ،یا متصل تو نہیں ،مگر عرف میں شہر کا حصہ سمجھے جاتے ہیں تو اس صورت میں ان مواقع پر پوری نماز پڑھنا واجب ہے،قصر کرنا جائز نہیں، جب تک ان سے آگے نہ گزرے۔

''فقال الحنیفیۃ: أن یجاوز بیوت البلد التی یقیم فیھا من لجھۃ التی خرج منھا وإن لم یجاوزھا من جانب آخر وأن یجاوز کل البیوت، ولو کانت متفرقۃ حتی کان اہلھا من البلد وأن یجاوز ماحول البلد من مساکن.'' (الفقہ الاسلامی وإدلتہ٢/١٣٥٠،کتاب الصلوٰۃ، رشیدیۃ)

''ومن خرج من عمارۃ موضع إقامتہ قاصداً مسیر ثلاثۃ أیام ولیالھا من أقصر أیام السنۃ بالسیر الوسط مع الاسترحات المعتادہ۔۔۔صلی الفرض الرباعی رکعیتن) وجوباً.''(تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ ٢/١٢٣،١٢٥، سیعد).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی