بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اذان کی آواز سن کر مسجد میں نہ جانا

اذان کی آواز سن کر مسجد میں نہ جانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اذان سن کر مسجد میں نہ جائے، اس کے لیے کیا وعید ہے ؟ اور دنیا کے کام میں مشغول ومصروف رہنے  کا اعتبار ہے یا نہیں ؟او رکسی کا ملازم ہونے کا اعتبار ہے یا نہیں ،یعنی یہ عذر قابل قبول ہے کہ میں تو ملازم ہوں، اس وقت چھٹی نہیں ملتی ہے، اس لیے نہیں جاسکتا ہوں؟

جواب

اذان سن کر فوراً مسجد میں جانا ضروری نہیں ہے،البتہ باجماعت نماز ادا کرنا واجب ہے خواہ کسی بھی  قسم کی مصروفیت ہو،بغیر عذرِ معقول کے جماعت کی نماز ترک کرنا سخت گنا ہ ہے، اس کا تارک فاسق ہے، فقہا نے یہاں تک لکھا ہے کہ بغیر عذرِ معقول تارک جماعت کی گواہی معتبر نہیں، اگرچہ نماز ہو جاتی ہے، ترکِ جماعت کا گناہ باقی رہتا ہے، ملازم کو چاہیے کہ بوقت نماز چھٹی کی درخواست کرے، اگر واقعی اس کو چھٹی نہ ملے تو اس کا عذر مسموع ہو سکتا ہے،لہٰذا اسے چاہیے کہ جماعت کی نماز حاصل کرے اگر مساجد میں نماز باجماعت ہوچکی ہو تو چند اصحاب کو لے کر با جماعت نماز ادا کرے حتی المکان جماعت کو ترک نہ کرے ( شامی ج١/٤١٠) پڑوسیوں کو چاہیے کہ اسے جماعت کی تاکید کریں ورنہ گناہ گار ہوں گے۔

''قال الحلوانی: إن الإجابۃباللسان مندوبۃ والواجبۃ ھی الإجابۃ بالقدم۔۔۔۔ ومافی شھادات المجتبی: سمع الأذان وانتظر الإقامۃ فی بیتہ لاتقبل شھادتہ.۔۔۔۔ وسیأتی۔۔۔۔وجوب الجماعۃ وأنہ یاثم بتفویتھا اتفاقا.'' وحینئذ یجب السعی بالقدم لا لأجل الأداء فی أول الوقت أو فی المسجد بل لأجل إقامۃ الجماعۃ وإلا لزم فوتھا اصلا.'' (الشامیۃ، کتاب الصلاۃ، ١/٣٩٦، سعید)

''وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْلَا مَا فِی الْبُیُوتِ مِنَ النِّسَاء ِ وَالذُّرِّیَّۃِ أَقَمْتُ صَلَاۃَ الْعِشَاء ِ وَأَمَرْتُ فِتْیَانِی یُحْرِقُونَ مَا فِی الْبُیُوتِ بِالنَّارِ.'' (مشکوٰۃ المصابیح، باب الجماعۃ وفضلھا،٩٧/١، سعید).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی