بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اذان کا جواب دینے کا حکم اور طریقہ

اذان کا جواب دینے کا حکم اور طریقہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ۱۔ اذان کا جواب دینا واجب ہے یا سنت؟

۲۔”مثل ما یقولہ المؤذن” کا مطلب ہے! مؤذن لمبے سانس اور جتنے وقت میں الفاظ اذان ادا کر ہرا ہے۔ سننے والا بھی ویساہی کرے گا یا صرف الفاظ مؤذن ادا کرے گا۔

جواب

۱۔اذان کا جواب دینا سنت ومستحب ہے۔

۲۔ مثل مایقول المؤذن کا مطلب یہ ہے کہ جو الفاظ مؤذن کہے سامع بھی وہی الفاظ کہے، البتہ (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح) کے جواب میں (لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم) کہنا چاہیے۔

(ويجيب) وجوبا وقال الحلواني ندبا والواجب الإجابة بالقدم ( من سمع الأذان ) ولو جنبا لا حائضا ونفساء… ( بأن يقول ) بلسانه (كمقالته)۔(الدر المختار مع ردالمختار، كتاب الصلاة، باب الاذان، ج:2، ص:65)

قوله ( لزوم إجابته) أي وجوبها وقيل سنة وقوله بالفعل ضعيف وفيه حرج والمعتمد ندب الإجابة بالقول فقط۔(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، كتاب الصلاة، باب الاذان، ص:156)

''یجب علی السامعین عند الأذان ان الإجابۃ، وھی أن یقول مثل ما قال المؤذن، إلا فی قولہ:''حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، فإنہ یقول مکان'' حی علی الصلاۃ، لاحول ولا قوۃ إلا باﷲ العلی العظیم.'' ( الہندیۃ، کتاب الصلوٰۃ، الباب الثانی فی الأذان،١/٥٧، رشیدیہ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی