سنار کا اپنی مزدوری کے بدلے سونا لینے کا حکم

Darul Ifta

سنار کا اپنی مزدوری کے بدلے سونا لینے کا حکم

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک تولہ سونے سے سنار جب زیور بناتا ہے،تو خالص سونے سے زیور نہیں بنتا، وہ اس زیور سے ایک ماشہ سونا کم کرکے اس کی جگہ ایک ماشہ (گیلٹ) کی ملاوٹ کرتا ہے، تو ایک ماشہ خالص سونا سنار کے پاس رہ جاتا ہے، اور وہ زیور بنانے کے پیسوں کے بجائے وہ ایک ماشہ خالصہ سونا لیتا ہے، کیا ایسا کرنا شرعا درست ہے یا نہیں؟

وضاحت:مستفتی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ سونا مشتری ہی کا ہوتا ہے، سنار اس سے صرف اپنی مزدوری کے پیسے لیتے ہیں۔ سنار کے لیے بطور اجرت پیسے مقرر کرتے ہیں پھر بعد میں وہ رضامندی سے سونا اپنی مزدوری میں لیتے ہیں

جواب

صورت مسئولہ میں اگر سنار اپنی مزدوری کے بدلے گاہک کا بچا ہوا سونا لیتا ہے، تو جائز ہے، بشرطیکہ وہ استبدال (جس وقت اپنی مزدوری کے عوض سونا کے متعلق بات کرے) کے وقت اس سونے پر قبضہ بھی کرلے۔

لما في التنویر:
’’(وجاز التصرف في الثمن) بھبۃ أو بیع أو غیرھما لو عینا، أي: مشار إلیہ، ولو دینا، فالتصرف فیہ تملیک ممن علیہ الدین، ولو بعوض ولا یجوز من غیرہ. ابن ملک.
(قبل قبضہ) سواء (تعین بالتعیین) کمکیل (أولا) کنقود، فلو باع إبلا بدراھم، أو بکر بر، جاز أخدہ بدلھما شیأآخر (وکذا الحکم في کل دین قبل قبضہ، کمھر وأجرۃ وضمان متلف) ویدل خلع وعتق بمال وموروث موصی بہ.
والحاصل جواز التصرف في الأثمان والدیون کلہا قبل قبضہا، عیني (سوی صرف وسلم) فلا یجوز أخذ خلاف جنسہ لفوات شرطہ‘‘.
وتحتہ في الرد:
’’قولہ:(جاز أخذ بدلھما شیأا آخر) لکن بشرط أن لا یکون افتراقا بدین کما یأتي في القرض.
قولہ: (وکذا الحکم في کل دین) أي: یجوز التصرف فیہ قبل قبضہ، لکن بشرط أن یکون تملیکا ممن علیہ بعوض أو بدونہ کما علمت، ولما کان الثمن أخص من الدین من وجہ کما قررناہ، بین أن ما عداہ من الدین مثلہ‘‘.(کتاب البیوع، مطلب في تعریف الکر: ٧/ ٣٩٢- ٣٩٤: رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر:174/346

 

footer