ایزی پیسہ/جاز کیش کمپنی کے نمائندے کی شرعی حیثیت

ایزی پیسہ/جاز کیش کمپنی کے نمائندے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی کسٹمر ایزی پیسہ یا جاز کیش کے دکان دار کے پاس جاتا ہے ،تو وہ ہزار روپے نکلوانے پر یا ہزار روپیہ بھیجنے پر 20 روپے کی کٹوتی کرتے ہیں۔
اس میں ایک طریقہ تو یہ ہوتا ہے کہ دکان دار وہ جیز کیش یا ایزی پیسہ کمپنی کا نمائندہ ہوتا ہے اور جاز کیش اور ایزی پیسہ کمپنی کو ایک مرکنٹائل / تجارتی (mercantile) اکاؤنٹ بنا کے دیتی ہے اور جو لوگ اس سے پیسے نکلوانے آتے ہیں یا بھیجتے ہیں ،تو ہزار روپے پر جو بیس روپے کٹوتی ہوتی ہے وہ کمپنی کرتی ہے اور دکان دار کو چار یا پانچ روپے کے حساب سے کمپنی کمیشن اور سالانہ بونس وغیرہ دیتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ یہ دکان دار جو کہ کمپنی کا نمائندہ ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اجیر خاص یا وکیل بالبیع؟

جواب

صورت مسئولہ میں دکان دار کمپنی کا نمائندہ ہے ،اس پر جو اجرت ملتی ہے، شرعی لحاظ سے اسے دلّال کہتے ہیں۔
لما في الرد:
’’تتمۃ:قال وفي التاتارخانیۃ: وفي الدلال والسمسار یجب أجر المثل، وما تواضعوا علیہ أن في کل عشرۃ دنانیر کذا، فذاک حرام علیھم .وفي الحاوي سئل محمد بن مسلمۃ عن أجرۃ السمسار، فقال: أرجو أنہ لا بأس بہ، وإن کان في الأصل فاسدا لکثرۃ التعامل ،وکثیر من ھذا غیر جائز فجوزہ لحاجۃ الناس إلیہ کدخول الحمام‘‘.(کتاب الإجارۃ، باب ضمان الأجیر، مطلب في أجرۃ الدلال: ٩/ ١٠٧:رشیدیۃ)
وفي المبسوط للسرخسي:
’’سئل عن محمد بن مسلمۃ عن أجرۃ السمسار، فقال: أرجو أنہ لا بأس بہ، وإن کان في الأصل فاسدا لکثرۃ التعامل، وکثیر من ھذا غیر جائز، وجوّزوہ لحاجۃ الناس إلیہ‘‘.(کتاب الإجارۃ، ١٥/ ١٥٥:دار الکتب العلمیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی(فتویٰ نمبر:176/213)