بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کفارہ نقدی کی صورت میں اور ایک ہی شخص کو ادا کرنے کا حکم

کفارہ نقدی کی صورت میں اور ایک ہی شخص کو ادا کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص قسم کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے نقدی کی صورت میں، اب یہ کتنے روپے ادا کرے، اور کس کو دے سکتا ہے اور کس کو نہیں؟آیا ایک ہی شخص کو دے سکتا ہے یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص اگر کفارے کو نقدی کی صورت میں ادا کرنا چاہتا ہے تو وہ دس صدقہ فطر کی مقدار نقدی ادا کرے، اور اگر وہ قسم کا کفارہ ایک ہی مسکین کو ادا کرنا چاہتا ہے، تو دس دن تک ایک صدقہ فطر کی مقدار سے دیتا رہے، البتہ ایک ہی دن میں نہیں دے سکتا،نیز اس کے مصارف وہی ہیں جو زکوة کے مصارف ہیں۔

لما في رد المحتار:

قوله:(عشرة مساكين) أي تحقيقا أو تقديرًا حتى لو أعطى مسكينًا واحدًا في عشرة أيام كل يوم نصف صاع يجوز، ولو أعطاه في يوم واحد بدفعات في عشر ساعات قيل: يجزي، وقيل: لا وهو الصحيح لأنه إنما جاز إعطاؤه في اليوم الثاني تنزيلًا له منزلة مسكين آخر لتجدد الحاجة من حاشية السيد أبي السعود. (كتاب الأيمان، مطلب كفارة اليمين: 5/523، رشيدية)

وفي التاتارخانية:

وفي المنتقى: قال أبو يوسف رحمه الله في رواية: إذا أعطى مسكينًا واحدًا كل يوم ثوبًا فعل ذلك في عشرة أيام أجزأه. (كتاب الأيمان: 6/308، فاروقيه)

وفيها أيضًا:

ويجوز دفع القيم، ولو بلغ قيمة نصف صاع من تمر قيمة نصف صاع من بر، لا يجوز إلا أن يؤدي صاعًا من تمر كصدقة الفطر. (كتاب الأيمان: 6/302، فاروقيه)

وفي الدر المختار:

وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة وكفارة..(كتاب الزكاة: 2/285-286، سعيد).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 155/144