بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نیو ائیر نائٹ اور نئے سال کی مبارک باددینے کی شرعی حیثیت

نیو ائیر نائٹ اور نئے سال کی مبارک باددینے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ نیوائیر نائٹ اور نیو ائیر ڈے کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ نئے عیسوی سال کی ”مبارکباد دینا اور دوست احباب کو ”مبارکبادی” کے کارڈ بھیجنا کیسا ہے؟ اور اسی طرح اسلامی سال نو کی مبارکباد دینا اور مبارکبادی کے کارڈ اپنے دوست احباب کو روانہ کرنا کیسا ہے؟

جواب

انسان کی طبیعت ہے کہ وہ معمولات کی یکسانیت سے کبھی کبھی گھبرا اٹھتا ہے، او رایسے دنوں کی ضرورت محسوس کرتا ہے جس میں وہ روز مرہ کی مصروفیات سے ہٹ کر کُھلے ذہن کے ساتھ اپنا کچھ وقت گزار سکے، اسی لیے ہر قوم وملت میں جشنِ مسرت منانے کے لیے کچھ ایام مقرر ہوتے ہیں ، جنہیں عرفِ عام میں تہوار کہا جاتا ہے ، ہر قوم کا مزاج تہوار منانے میں الگ ہو سکتا ہے، لیکن ایک بات سب میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے، وہ ہے ” خوشی منانا”،دنیا میں جتنے بھی تہوار منائے جاتے ہیں ، ان میں مذہبی اعتقادات ضرور شامل ہوتے ہیں، خود اسلامی تہوار میں بھی مذہبی عنصر کو بہت اہمیت حاصل ہے، البتہ اسلام نے دوسری اقوام کے تہواروں کی طرح اپنے اجتماعی خوشی کے ایام کو کسی اہم تاریخی واقعہ یا موسم کے ساتھ نہیں جوڑا، بلکہ حال ہی میں انجام دی جانے والی عبادت کے ساتھ مربوط کر دیا ہے ، تاکہ اس سے یہ سبق حاصل ہو کہ اصل خوشی منانے کا حق تو ان کاموں پر پہنچتا ہے جو کہ حال ہی میں تم نے انجام دیئے ہیں، محض ان کارناموں پر نہیں جو تمہارے آباء واجداد نے انجام دیے تھے،اسلام میں جشن یا تہوار کے دن صرف دو ہیں:عید الفطر اورعید الأضحی، یہ دو دن ایسے مواقع پر آتے ہیں کہ پوری امت ایک ایسی اجتماعی عبادت کی تکمیل سے فارغ ہوتی ہے جو سال میں ایک بار انجام دی جاتی ہے ،عید الفطر رمضان کے تربیتی دور کے بعد آتی ہے، جو روزے جیسی اہم عبادت کی تکمیل پر احساس تشکر کے اظہار کے لیے منائی جاتی ہے اور عید الأضحی حج کے مبارک ایام کے بعد قربانی کے لیے،حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مدینہ منورہ آئے تو اہل مدینہ کے ہاں دو دن مقرر تھے ، جس میں وہ کھیلتے اور خوشیاں مناتے تھے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان ایام کے بارے میں دریافت فرمایا، عرض کیا گیا کہ ہم جاہلیت کے زمانے سے یہ دن مناتے چلے آرہے ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:” اﷲتعالیٰ نے تم کو اس کے بدلہ اس سے بہتر دو دن عطا کیے ہیں : ”عید الفطر اور عید الاضحی” (مسند احمد:13210,250/3)

مذکورہ فرمانِ رسالت سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام میں غیر مسلم اقوام کے تہواروں کو اپنانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، کیوں کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر وقت اپنے خالق کی اطاعت میں دیکھنا چاہتا ہے، وہ انسان پر یہ واضح کرتا ہے کہ یہ وسیع تر کائنات اور خود انسان کا وجود کھیل کود اور دل لگی کے لیے نہیں، کہ اسے بے کار تقریبات وتفریحات او رکھیل کود میں ضائع کر دیا جائے،غیروں کے تہوار منانے کی کوئی سبیل ہوتی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اہل مدینہ سے فرما دیتے کہ تم اس کے خراب امور ترک کردو اور ان کی اصلاح کر کے مناؤ، لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کلی طورپر ان سے نفرت کااظہار کرکے منع فرمادیا اور صرف دو اسلامی تہوار منانے ہی کی اجازت عنایت فرمائی۔

غیروں کی نقالی سے کیوں منع کیا گیا؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دوسری قوموں کی عادات، رسم ورواج ، طور طریقے او رمذہبی شعار اپنانے کو دائرہ اسلام سے نکل کر انہی کے مذہب کے دائر ے میں داخل ہونے کے مترادف قرار دیا ہے، جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:”من تشبہ بقوم فھو منھم”( أخرجہ ابوداؤد فی باب لبس الشھرۃ برقم:4031)ترجمہ:”جو شخص جس قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہیں میں سے ہے”کفار کے عقائد وعبادات اور اُن عادات واطوار میں مشابہت جو کہ اُن کی پہچان ہیں کسی طور پر بھی جائز نہیں ، اس کا نتیجہ بعض مرتبہ یہ نکلتا ہے کہ ایمان جیسی عظیم اور لازوال نعمت چھن جاتی ہے۔

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اﷲ نے ”اقتضاء الصراط المستقیم” میں غیروں کی نقالی کے ممنوع ہونے کی بہت ساری وجوہات ذکر کی ہیں اور اس پر تفصیلی کلام کیا ہے، کچھ تبدیلی کے ساتھ ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کر دینا مناسب ہے:

۱۔کفار کی نقل اور پیروی کرنے سے آدمی خود بخود صراطِ مستقیم کی پیروی سے ہٹ جاتا ہے۔

۲۔ ان کی پیروی کرنے سے اُن کے قول وعمل سے ہم آہنگی اور قلبی موانست ومحبت پیدا ہو جاتی ہے ، جو سراسر ایمان کے منافی ہے۔

۳۔ کفار کی مشابہت پرجمے رہنے سے خود شریعت مطہرہ سے نفرت پیدا ہو جاتی ہے اور ایمان کمزور سے کمزور تر ہوتا چلاجاتا ہے۔
۴۔اُن کی بُری عادات وصفات بھی اچھی لگنے لگتی ہیں اور آوارگی، بے حیائی او رجنسی بے راہ روی عام ہو جاتی ہے۔
۵۔ مسلمانوں کی اس نقالی کو دیکھ کر کفار دلی خوشی محسوس کرتے ہیں او راپنے کفر پر مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔
۶۔ کفار کے اعمال، عقائد، رسم ورواج او رجشن وتہوار سب کے سب برائیوں کا مجموعہ او ربھلائیوں سے یکسر خالی ہیں۔
لہٰذا عقائد وعبادات اور جشن وتہوار میں غیر مسلم اقوام کی نقالی ناجائز وحرام ہے، نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے شرعی عیدیں صرف دو قرار دی ہیں ، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے : ” اﷲ کے دشمنوں سے ان کی عیدوں( تہواروں) میں اجتناب کرو”،حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ کا قول ہے: ” جس نے مشرکین کے ملک میں گھر بنایا ان کے ” نوروز ومہرجان”(تہواروں) کے جشن منائے او راسی حالت میں موت آگئی تو قیامت کے روز انہی میں سے اٹھایا جائے گا۔” ( اقتضاء الصراط المستقیم: ص212)

مندرجہ بالا تفصیل سے واضح ہو گیا کہ سوال میں ذکر کردہ جدید رسومات اُن کے دیگر مفاسدِ کثیرہ سے قطعِ نظر غیر اسلامی تہوار ورسومات ہیں، جو ان کو منائے گا تو وہ اسلام سے نکلنے کی سعی مذموم کا ارتکاب کرے گا۔

مذکورہ تمہید کے بعد اب اس رسم  کا قدرے تفصیل سے ذکر کرتے ہیں ، ہم ان کی حقیقت کی بھی کچھ وضاحت کریں گے ، تاکہ شرعاً، عقلا اور عرفاً ان کی خوب قباحت ظاہر ہو جائے۔

ہیپی نیوائیر

تاریخ میں نئے سال کا استقبال مختلف تاریخوں میں ہوتا رہا ہے، برطانیہ او رامریکا میں سترہویں صدی میں جنوری سے شروع ہونے والے کلینڈر کو اختیار کیا گیا، چناں چہ جنوری کے پہلے دن کو نئے سال کے طور پر منایا جانے لگا، یہودی لوگ مخصوص کھانے پکانے کے ساتھ مذہبی تقریبات منعقد کرتے، جنوبی ایشیا کے لوگ پرندے آزاد کرتے، لیکن یہ ابتدائی بات تھی، انیسویں صدی کے شروع کی بات ہے کہ برطانیہ کی رائل نیوی کے جوانوں کا زیادہ حصہ تھکا دینے والے بحری سفروں میں گزرتا، تو وہ لوگ اپنی بوریت دور کرنے کے لیے جہازوں کے اند راپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرتے رہتے، کبھی ایک دوسرے کی سال گرہ مناتے، کبھی کتوں بلیوں او رگھروں کی سال گرہیں کرتے، ویک اینڈ مناتے، ایسٹر اور کرسمس کااہتمام کرتے، انہیں تقریبات کے دوران شیطان نے ایک نیا آئیڈیا ان کے ذہن میں ڈالا کہ نئے سال کی آمد پر بھی خوب تفریح ہونی چاہیے، لہٰذا اس سال 31 دسمبر کو سب ایک جگہ اکٹھے ہوئے ، رات دس بجے کے بعد خوب شراب پی ، رقص کیا اور ٹھیک بارہ بج کر ایک منٹ پرایک دوسرے کو جام پیش کیا اور نئے سال کی مبارک باد دی، یہ نیوائیر نائٹ کا آغاز تھا، پھر رفتہ رفتہ اس وقت بتیاں گل کرکے حیا سوز افعال کا ارتکاب کرکے مبارک بادی جانے لگی، آہستہ آہستہ یہ رسم ایک جہاز سے دوسرے جہازوں تک، پھر وہاں سے ساحل پر او رپھر پوری دنیا اس بے حیائی اور فحاشی کی رسم میں رنگ گئی ، اور بڑے بڑے شہروں میں فحاشی اور عریانی سے بھرپور تقریبات کا انعقاد ہونے لگا۔

نیو ائیر کی تقریبات نے پوری دنیا کی ثقافت پر گہرے اثر چھوڑے، اس کی فحاشی عریانی اور بے حجابی کے جراثیم آہستہ آہستہ نوجوان نسل کی اخلاقیات کو چاٹ رہے ہیں ، جس سے بے حیائی ، آوارگی او رجنسی بے راہ روی عام ہو رہی ہے،ہمارے ملک پاکستان میں بھی یا تو نوجوان اپنے من پسند جوڑے لے کر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں اپنے ایمان کو برباد کرتے ہیں او رجو وہاں نہیں جاسکتے تو سڑکوں ، چوراہوں اور چوکوں پر آتش بازی، فائرنگ اور دیگر ایمان شکن اور حیا سوز افعال کے ساتھ نئے سال کا استقبال کرتے ہیں ، جس میں درجنوں مرتے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو جاتے ہیں،اسلام نے تو جو کام جائز اور مباح ہیں ان میں بھی غیروں کے ساتھ مشابہت کو ناجائز قرار دیا ہے ، تو پھر شرعاً عرفاً اور عقلاً جو رسم ناجائز اورحرام ہو اس میں مشابہت مسلمان کے لیے کیسے درست ہو سکتی ہے ؟لہٰذا نیو ائیر منانا، اس پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا ، دوست احباب کو کارڈ بھجوانا سب ناجائز ہے ، اگر کوئی دوست کارڈ بھجوا بھی دے تو اسے واپس کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔

اسلامی سال نو کی مبارک باد دینا

اسلامی سالِ نو کی مبارک باد او راس میں مبارک بادی کے کارڈ کی رسم بھی بظاہر نیو ائیر ہی کا چربہ معلوم ہوتی ہے، لہٰذا اس بھی اجتناب کیا جائے، اﷲتعالیٰ نے تکوینی طور پر اسلامی سال کا آغاز اور اس کی انتہاء اپنے اعلانِ کبریائی پر کردی ہے، جب ”ذی الحجہ” کا سورج غروب ہو کر ” محرم الحرام” کے آغاز کی خبر دیتا ہے تو مؤذن نغمہ الہٰی سُنا کر مسلمانوں کو متنبہ کرتا ہے کہ حاکمیت صرف مسلمانوں کے معبود ہی کے لیے ہے اور کام یابی صرف اور صرف اﷲ رب العزت کی اطاعت اور اُس کے پیارے او رمحبوب رسول سیدنا محمد بن عبداﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک طریقوں پر چلنے میں ہے نہ کہ غیروں کی نقل اور پیروی کرنے میں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 80/384