بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نظریہ تخلیط ادیان کی شرعی حیثیت

نظریہ تخلیط ادیان کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری شامت اعمال کی وجہ سے آج فضاء میں فتنہ  تخلیط ادیان کا تعفن رفتہ رفتہ غیر شعوری طور سے بڑھ رہا ہے۔ امت مسلمہ کو اس بلائے جاں گزار سے نجات دلانے کے لیے بتقاضہ وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ علمائے اسلام کی توجہات بابرکات اس طرف مبذول کی جائیں اور ہر ایک سے فتویٰ حاصل کرکے اس کو کتابی شکل میں بنام ”فتاویٰ علمائے اسلام درانسدا دفتنہ تخلیط ادیان” شائع کیا جائے، تاکہ امت مسلمہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر اس بلائے بے درمان سے بروقت چھٹکارا حاصل کرسکے،اس سلسلے میں آں جناب کے نام بھی ایک استفتا ارسال خدمت ہے اس کے جواب میں پرمغز جواب  لکھ کر ممنون فرمائیں :

۱۔ نظریہ تخلیط ادیان ( اسلام اور کفر عیسائیت وغیرہ کو ایک دوسرے کے ساتھ گھلانے ملانے) کی حیثیت از روئے شریعت محمدیہ کیا ہے؟

۲۔ ایسے امور کا ایجاد اور احداث کیسا ہے، جن کا انجام نظریہ تخلیط ادیان کی شعوری یا غیر شعوری تائید کرنا ہو؟

جواب

عصر حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے جو سازشیں دشمنان اسلام تیار کر رہے ہیں اس میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے،نئے نئے فتنے تیار کیے جارہے ہیں، ان میں سے ایک بڑا فتنہ ” نظریہ تخلیط ادیان” بھی ہے ،اس نظریہ کا مقصد یہ ہے کہ اسلام یہودیت، نصرانیت اور دیگر باطل مذاہب کو ایک جگہ جمع کیا جائے، یعنی مسجد، گرجا، ہیکل او رمندر وغیرہ کو یکجا تعمیر کیا جائے ، گویا ایک چھت کے نیچے تمام ادیان یعنی حق وباطل اکھٹے ہوں اور باہم گھل مل جائیں ، سچ اور جھوٹ کا امتیاز نہ رہے، اندھیرا اجالا ایک جگہ جمع ہو جائیں ، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دوسری جگہوں پر ایک ہی کمرہ ان تمام ادیان کے لیے تعمیر کیا جائے اور توراۃ وانجیل کو قرآن کے ساتھ یک جا کرکے ایک ہی قالب میں چھپوا کر نشر کیا جائے ، یہی تخلیط ادیان کا منشاء ہے، اسی کی طرف مسلمانوں کو دعوت دی جارہی ہے۔

دشمنانِ دین کا مقصد اس فتنے کا عالم اسلام میں برپا کرنے سے یہ ہے کہ جس طرح یہودیت اپنی حقیقت کھو چکی ہے اور نصرانیت کا حلیہ بگڑ چکا ہے ،اسی طرح وہ یہ حشر دین اسلام کا بھی کرنا چاہتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ابتدائے اسلام سے ہی یہود ونصاریٰ اسلام کے خلاف سازشوں کے جال بُنتے آرہے ہیں، اس لیے کہ جتنے مسلمان اسلام سے دور ہوں اور مشکلات کا شکار ہوں اتنے ہی یہ دشمنان اسلام خوش ہوتے ہیں، ارشاد باری تعالی ہے کہ: ( وَدُّواْ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاہِہِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُورُہُمْ أَکْبَرُ)''ان کو خوشی ہے کہ تم جس قدر تکلیف میں ہو، نکل پڑتا ہے، بغض ان کے منہ سے، جو کچھ مخفی ہے ان کے جی میں وہ اس سے بہت زیادہ ہے۔” (آل عمران:، آیت:۱۱۸)

اسلام ہی وہ دین ہے، جو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے ، اسلام کے سوا کوئی دین وجہ الارض پر برحق نہیں، اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ( ان الدین عندا ﷲ الاسلام).''بلاشبہ دین ( حق او رمقبول) اﷲ تعالی کے نزدیک صرف اسلام ہی ہے۔” (سورۃ آل عمران، آیت:۱۹)

اﷲ تعالیٰ نے اس دین کو پسندیدہ قرار دیا اور ارشاد فرمایا کہ: (فمن یبتغ غیر الاسلام دنیا فلن یقبل منہ)” جو اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو طلب کرے گا تو وہ دین اس شخص سے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہ ہو گا۔”

اسلام ہی وہ دین ہے جس کے آنے سے تمام ادیان سابقہ منسوخ ہوچکے ہیں اور جس طرح دین اسلام تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والا ہے اسی طرح نبی آخر الزمان صلی اﷲ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید بھی تمام کتب سابقہ کے لیے ناسخ ہے، یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ہر مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک وہ یہ ایمان نہ رکھتا ہو کہ قرآن مجید پچھلی تمام کتابوں کے لیے ناسخ ہے۔

اﷲتبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ :(وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتَابِ وَمُہَیْمِنًا عَلَیْہِ فَاحْکُم بَیْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللَّہُ)

” اور ہم نے تجھ پر کتاب اتاری سچی تصدیق کرنے والی سابقہ کتابوں کی اور ان کے مضامین پر نگہبان، سواسی کے مطابق فیصلہ کرو۔” (سورۃ المائدہ: آیت: ۴۸)

یہود ونصاری کا مسلمانوں کو تخلیط ادیان کی طرف دعوت دینا، دراصل مسلمانوں کی دلوں سے اس ایمان کو نکالنا ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس آیت میں قرآن کریم کو ان کے کتابوں پر نگہبان بنا کر ان کا پردہ چاک کیا ہے ،کیوں کہ توراۃ میں یہود نے اور انجیل میں نصاریٰ نے تحریف جیسے مذموم فعل کا ارتکاب کیا اور دنیا کی لالچ کی خاطر اﷲ تعالیٰ پر افتراء باندھا اور خود لکھ کر اپنے اس جھوٹ کو اﷲ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا، چناں چہ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے کہ : (فَوَیْلٌ لِّلَّذِینَ یَکْتُبُونَ الْکِتَابَ بِأَیْدِیہِمْ ثُمَّ یَقُولُونَ ہَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّہِ لِیَشْتَرُوا بِہِ ثَمَنًا قَلِیلًا فَوَیْلٌ لَّہُم مِّمَّا کَتَبَتْ أَیْدِیہِمْ وَوَیْلٌ لَّہُم مِّمَّا یَکْسِبُونَ)'' ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے، تاکہ انہیں عوام کی رضا جوئی اور کچھ نقدی حاصل ہو، ( اور وہ قادر ہو جائیں اور سوسائٹی میں ان کی وقعت ہو) سو ہلاکت ہے ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے کو اﷲ کا لکھا ہوا کہا اور وہ کما ئی بھی باعث ہلاکت ہے جو اس طریقے سے انہوں نے حاصل کی۔” ( سورۃ البقرۃ، آیت:۷۹)

دشمنانِ اسلام جب اﷲ تعالی کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرنے سے دریغ نہیں کرتے تو مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ حربے ضرور استعمال کرسکتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے شیطانی راستے پر ڈالنے کے لیے ہر ممکن کو شش کرسکتے ہیں،نظریہ تخلیط ادیان، دشمن اسلام کی جدید آواز ہے اور یہ نیا فتنہ ہے جو اصول اسلام کے منافی ہے، اس کا مقصد اسلام اور کفر کے فرق کو ختم کرنا ہے ، حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنا ہے ، اسلام کو نیست ونابود کرنے کی ناپاک جسارت ہے، قرآن کریم کی حقانیت کو اس طرح مشکوک بنانا ہے، جیسے سابقہ کتابیں ان کی تحریف کی وجہ سے مشکوک ہوئی ہیں۔

کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اس دعوت کو آگے بڑھائے یا اس میں کسی قسم کا حصہ لے ، اسی طرح مسلمانوں کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ توراۃ وانجیل کو چھپوا کرشائع کریں،کیوں کہ قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد یہ منسوخ ہو چکی ہیں۔
ایک دفعہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے توراۃ کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھا تو سخت ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا اور غصے میں آکر انہیں مخاطب کرکے فرمایا: کہ اے خطاب کے بیٹے! کیا تجھے مجھ میں شک ہے ؟ کیا میں صاف وشفاف ہدایت نہیں لایا؟ اگر موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی آج زندہ ہوتے تو میری اتباع کرتے۔

تخلیط ادیان کی وضاحت حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اﷲ نے ان الفاظ میں کی ہے، آیت ''فمن یتبغ غیر الاسلام'' کے تحت ان آیات نے پوری وضاحت کے ساتھ اس ملحدانہ نظریہ کا خاتمہ کر دیا ،جس میں اسلام کی روا داری کے نام پر کفر واسلام کو ایک کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ دنیا کا ہر مذہب خواہ یہودیت و نصرانیت ہو یا بت پرستی ہر ایک نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے بشرطیکہ اعمال صالحہ او راخلاق حسنہ کا پابند ہو اور یہ در حقیقت اسلام کے اصول کو منہدم کرنا ہے ، جس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اسلام کی کوئی حقیقت ہی نہیں، محض ایک خیالی چیز ہے جو کفر کے ہر جامہ میں بھی کھپ سکتا ہے۔

قرآن کریم کی ان آیات اور ان جیسی بے شمار آیات نے کھول کر بتلا دیا کہ جس طرح اجالا اور اندھیرا ایک نہیں ہوسکتے ، اسی طرح یہ بات نہایت نامعقول اور ناممکن ہے کہ اﷲ تعالیٰ کو اپنی نافرمانی اور بغاوت بھی ایسے ہی پسند ہو جیسے اطاعت وفرماںبرداری۔ (معارف القرآن:۲/۳۸)

اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ کفر اور اسلام ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، قرآن اور وہ دوسری سابقہ منسوخ کتابیں ایک قالب میں نہیں ڈھل سکتیں ، مسجد گرجا اور ہیکل ومندر کی تعمیر یا عمارت اکٹھی نہیں ہوسکتی، مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مسجد اﷲ تعالیٰ کا گھر ہے ، گرجا اور ہیکل اﷲ کا گھر نہیں ،اگرچہ اس میں بھی اﷲ تعالیٰ کی یاد کیوں نہ کی جاتی ہو ، اس لیے اسلام کے کسی ایک اصول سے بھی دست برداری کسی حال میں بھی جائز نہیں، یہود ونصاری کی رغبت کی خاطر اسلامی اصولوں کو نظر انداز کرنا یا کچھ وقت کے لیے ترک کرنا، اسلام کے منافی ہے ، یہود ونصاری مسلمانوں سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتے جب تک ان کا تباع نہ کیا جائے، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس فاسد نظر یہ کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔

کیوں کہ یہ اصول اسلام کے سراسر منافی ہے اور ا س کی طرف دعوت بھی منافی اسلام اور ہدم اسلام میں دشمنان دین کی اعانت ہے؛لہٰذا کسی طور پر بھی جائز نہیں؛ بلکہ اس فتنے کی سرکوبی ضروری ہے ،کیوں کہ کافر کو کافر کہنا بھی اسلام کے اصولوں میں داخل ہے،جہاں ایمان باﷲ کا حکم دیا گیا ہے، وہاں کفر بالطاغوت کا حکم بھی دیا گیا ہے اور جہاں اس دعوت فاسدہ میں شرکت ناجائز ہے ،وہاں ایسے امور سے بھی اجتناب ضروری ہے،جن کا انجام شعوری یا غیر شعوری طور پر اس نظریہ فاسدہ کی تائید کرتا ہو۔

اﷲ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ تمام مسلمانوں کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے اور اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب فرمائے اور کفر اور اہل کفر کو مغلوب فرمائے۔ آمین۔

قال اﷲ تعالی:(وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی وَلاَ تَعَاوَنُواْ عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ). (المائدۃ:۲)

قال الحافظ: یأمر تعالیٰ عبادۃ المؤمنین بالمعاونۃ علی فعل الخیرات وھو البر، وترک المنکرات وھو التقوی وینہٰھم عن التناصر علی الباطل والتعاون علی المآثم والمحارم.'' (تفسیر ابن کثیر:المائدۃ: ۲، ۲/۱، دارالفجاء دمشق)

''عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أتی رَسُولَ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- بنسخۃ مِنَ التَّوْرَاۃِ فَقَال : یَا رَسُول اللَّہ ہَذِہ نُسْخَۃ مِن التَّوْرَاۃ. فَسَکَت فَجَعَل یَقْرَأ و وجہ رسول اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- یتغیر ، فقال أبو بکر : ثَکِلَتْک الثواکِل ، أَمَا تَرَی مَا بِوَجْہِ رَسُولِ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم-؟ فَنظر عُمَرُ إِلَی وجہِ رَسُولِ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- فَقَالَ : أَعُوذُ بِاللَّہِ مِنْ غَضَبِ اللَّہِ وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِہِ ، رَضِینَا بِاللَّہِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِیناً وَبِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -صلی اللہ علیہ وسلم- : وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَوْ بَدَا لَکُمْ مُوسَی فَاتَّبَعْتُمُوہُ وَتَرَکْتُمُونِی لَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاء ِ السَّبِیلِ ، وَلَوْ کَانَ حَیًّا وَأَدْرَکَ نُبُوَّتِی لاَتَّبَعَنِی .'' (مشکوٰۃ المصابیح: کتاب الإیمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ۱/۲۲، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی