میت کے اولیاء کی ترتیب

میت کے اولیاء کی ترتیب

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کے اولیاء میں کون کون داخل ہے، اور ان کی ولایت کی ترتیب کیا ہے؟ اور ولی ابعد اگر نماز جنازہ پڑھ لے یا اجازت دے دے ،تو ولی اقرب کو دوسری مرتبہ نماز جنازہ پڑھنے کا حق حاصل ہوگا یا نہیں؟

جواب

میت کے اولیاء میں اس کے بیٹے، پوتے اور پڑپوتے (وإن سفل) ہیں، پھر اس کا والد، دادا، پردادا (وإن علا)، پھر اس کا حقیقی بھائی، اس طرح الاقرب فالاقرب کے لحاظ سے، البتہ جنازہ کے مسئلے میں باپ بیٹے سے مقدم ہے، اگر ولی ابعد ولی اقرب کی اجازت کے بغیر نماز جنازہ پڑھادے، اس کے بعد اگر ولی اقرب نماز پڑھانا چاہے، تو پڑھ سکتا ہے، اس لیے کہ ولی ابعد ولی اقرب کے مقابلے میں اجنبی کی طرح ہے۔
وفي التنویر مع الدر:
’’(ثم الولي) بترتیب عصوبۃ الإنکاح، إلا الأب فیقدم علی الابن اتفاقا، إلا أن یکون عالما والأب جاھلا فالابن أولی، فإن لم یکن لہ ولي فالزوج ثم الجیران، ومولی العبد أولی من ابنہ الحر لبقاء ملکہ، والفتوی علی بطلان الوصیۃ بغسلہ والصلاۃ علیہ، (ولہ) أي للولي، ومثلہ کل من یقدم علیہ من باب أولی (الإذن لغیرہ فیھا) لأنہ حقہ فیملک إبطالہ (إلا) أنہ (ان کان ھناک من یساویہ فلہ) أي لذلک المساوي ولو أصغر سنا (المنع) لمشارکتہ في الحق .أما البعید فلیس لہ المنع (فإن صلی غیرہ) أي الولي (ممن لیس لہ حق التقدم) علی الولي (ولم یتابعہ) الولي (أعاد الولي) ولو علی قبرہ إن شاء لأجل حقہ لا لإسقاط الفرض، ولذا قلنا: لیس لمن صلی علیھا أن یعید مع الولي لأن تکرارھا غیر مشروع.وفي الرد: وفي الکلام رمز إلی أن الأبعد أحق من الأقرب الغائب. وحد الغیبۃ ھنا أن یکون بمکان تفوتہ الصلاۃ إذا حشر، ط. عن القہستاني: زاد في البحر: وأن لا ینتظر الناس قدومہ‘‘.(کتاب الصلاۃ، مطلب تعظیم أولي الأمر واجب: ٣/ ١٤١ - ١٤٦:رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:176/113