بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

محفل میلاد منعقد کروانا

محفل میلاد منعقد کروانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میلاد کی محفل منعقد کرانا ،او راس میں شرکت کرنا کیوں غلط ہے؟ براہ کرم اس کا مدلل جواب دیں؟

جواب

نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت وحالات بیان کرنا بہت مبارک اور مفید عمل ہے، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت وعادات ساری اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ہیں، اسی میں مسلمانوں کی فلاح وبہبود منحصر ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ جان لینا نہایت ضروری ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہر وہ کام بتا دیا ہے، جو دین کا حصہ ہے، اور جس کو کرنے سے ثواب ملتا ہے، اس میں اضافہ کرنا سخت گنکاہ ہے، حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے سیرت وکردار سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا یہ ایک ایسی عبادت اور ضرورت ہے، جو آج نئی پیدا نہیں ہوئی، بلکہ بعثت ونبوت کے بعد ہی سے اس کی ضرورت تھی کہ ابتدائی زمانہ اور قرون اولیٰ میں جب کہ سیرت مدون نہیں ہوئی تھی اور منتشر واقعات لوگوں کے سینوں میں محفوظ تھے، اس وقت اس کی ضرورت آج سے کہیں زیادہ تھی،لیکن اس کے باوجود قرونِ اولیٰ بلکہ اس کے بھی بہت بعد تک اس کی ایک نظیر پیش نہیں کی جاسکتی کہ کہیں سالانہ جلسوں اور میلادوں کا انعقاد ، ان خرافات کے ساتھ کیا گیا ہوجو آج کل کی جاتا ہے، روز اوّل سے ہی سیرت قدسیہ عام مسلمانوں کی نصاب تعلیم کا ایک اہم جزو تھا، لیکن عام لوگوں علمائے کرام کے مواعظ حسنہ اورکتب سیرت کے مطالعہ کے ذریعے اس مقصد کو بلا قید تاریخ او ربلا رسوم مروجہ باحسن وجوہ حاصل کرتے تھے۔

درحقیقت اگر غور کیاجائے تو سیرت مقدسہ ایسی چیز نہیں ہے کہ سال بھر میں اسے ایک دو ر وز میں بیان کرکے فارغ ہو جائیں، بلکہ آپ کی ولادت سے لے کر وفات تک زندگی کے ہر شعبے میں صحیح حالات وواقعات اور آپ کے اقوال وافعال کو سیکھنا سکھانا باعثِ نزول رحمت خدا وندی ہے، سال کے ہر مہینہ اور مہینہ کے ہر ہفتہ اور ہفتہ کے ہر دن کوئی وقت ایسا نہیں کہ جس میں آپکی زندگی کے حالات بیان کرنے اور سننے منع ہوں، لیکن اس کے لیے مخصوص ایام اور طریقے اپنی طرف سے متعین کرنا او رمن گھڑت واقعات بیان کرکے ثواب کی امید رکھنا بدعت ہے، اور ثانی مندوب ومستحسن ہے، بہرحال بدعات مروجہ اور رسوماتِ زمانہ کی وجہ سے مروجہ میلاد سے روکا جاتا ہے، نہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کےمبارک تذکرے سے۔

''(البدعۃ) ماأخدث علی خلاف الحق الملتقی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِلْمٍ أَوْ عَمَلٍ أَوْ حَالٍ بِنَوْعِ شُبْہَۃٍ وَاسْتِحْسَانٍ وَجُعِلَ دِینًا قَوِیمًا وَصِرَاطًا مُسْتَقِیمًا.''(رد المحتار، باب الإمامۃ١/٥٦٠، سعید)

'' وقال العلامۃ المناوی فی فیض القدیر تحت حدیث '' من أحدث فی أمرنا ھذا الخ : أی انشاء واخترع وأتی بأمر حدیث من قبل نفسہ۔۔ (مالیس منہ) أی رایاً لیس لہ من الکتاب أو السنۃ عاضد ظاہر أو خفی، ملفوظ أو مستنبط (فھورد): أی مردود علی فاعلہ لبطلانہ.'' (١١/٥٥٩٤، رقم الحدیث: ٨٣٣٣، مکتبہ نزار مصطفی)

''وفی مجموعۃ الفتاوی علی ھامش خلاصۃ الفتاوی: ''ذکر مولود شریف یعنی وقائع ولادت ومعجزات بیان کردن خواہ ملک ہند باشد باسند۔۔۔۔۔۔ جائز است کے اہل اسلام رادرین کلام نیست الخ.(کتاب الکراھیۃ٤/٢٣٥، امجد اکیڈیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی