بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کمپنی کی اجازت کے بغیر اس کی چیزیں بیچنے کا حکم

کمپنی کی اجازت کے بغیر اس کی چیزیں بیچنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک آدمی ہے جو چوکیدار ہے، یا پھر موبائل سم کی کمپنیوں کے ٹاور لگے ہوتے ہیں وہاں کام کرتا ہے، اب اس جگہ کام کرنے کے لیے مختلف بندے تبدیل ہو کر آتے ہیں، اور اس جگہ جو چیزیں موجود ہیں وہ سب ایک فہرست میں لکھی ہوئی ہیں، لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اس فہرست میں لکھی ہوئی نہیں ، تو یہ آدمی ان چیزوں کو فروخت کرسکتا ہے یا نہیں؟ اور کوئی آدمی اس سے خرید سکتا ہے یا نہیں؟ فروخت کرنے اور خریدنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔

وضاحت: کمپنی کی طرف سے بیچنے کی اجازت نہیں، کمپنی سے چھپ کر بیچ رہا ہے، نیز اگر کمپنی کے علم میں یہ بات آگئی تواس کو ملازمت سے فارغ بھی کرسکتی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں چوں کہ کمپنی کی طرف سے فہرست میں غیر درج شدہ چیزوں کے بیچنے کی اجازت نہیں ہے، اس لیے ان اشیاء کا بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہے، فروخت کرنے والا اور خریدنے والے کے بارے میں حکم یہ ہے کہ دونوں گناہ گار ہوں گے، اور ان اشیاء کا واپس کرنا لازم ہے، اگر ہلاک ہوگئی ہوں، تو ان کا تاوان دینا ضروری ہے، البتہ خریدنے والے کو اگر معلوم نہ ہو، تو اسے گناہ نہ ہوگا۔

لما في بدائع الصنائع:

وجه قولهما: إن البيع والتسليم غصب، لأنه تفويت إمكان الأخذ، لأن المالك كان متمكنا من أخذه منه قبل البيع والتسليم، وبعد البيع والتسليم لم يبق متمكنا، وتفويت إمكان (الأخذ تفويت اليد معنى، فكان غصبًا موجبًا للضمان. (كتاب الغصب: 10/8، مكتبه رشيدية)

وفي التنوير مع الدر:

(وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة ولغير من علم الأخيران) فلا إثم؛ لأنه خطأ، وهو مرفوع بالحديث. (كتاب الغصب: 9/302، رشيدية)

وفي رد المحتار:

((لغير الرد أو الغرم فقط دون الإثم. قوله: بالحديث وهو قوله عليه الصلاة والسلام: رفع عن أمتي الخطأ والنسيان) معناه: رفع مأثم الخطأ. (كتاب الغصب: 9/303، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر : 176/147