قرض سے نجات کے لیے وظیفہ

قرض سے نجات کے لیے وظیفہ

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جتنا قرضہ اتار دیتی ہوں، میرے اوپر واپس قرضہ چڑھ جاتا ہے، اللہ کے فضل سے میں دعائیں بھی پڑھتی ہوں اور قرآن کریم کی تلاوت بھی کرتی ہوں اور پانچ وقت کی نمازی اور پرہیز گار ہوں، تو آپ سے عرض یہ ہے کہ مجھے کوئی ایسا وظیفہ یا دعا بتا دیں، تاکہ میری یہ مشکلات حل ہوجائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ بلا ضرورت قرض لینے سے بچنا چاہیے، اگر کسی وقت قرض کی ضرورت پڑے، تو پہلے پوری کوشش کرلے کہ جتنا اس کے پاس ہے اسی میں کام چل جائے اور قرض نہ لے اور صلوۃ الحاجت کا اہتمام کرے اور دعا مانگتا رہے کہ اے اللہ قرض سے بچا دے، پھر بہت ہی مجبور ہو جائے، تو قرضہ واپس کرنے کی پختہ نیت کے ساتھ قرض لے۔
جس پر قرضہ ہو اور قرض کی وجہ سے پریشان رہتا ہو، تو اسے چاہیے کہ ان چند دعاؤں کا اہتمام کرے، جو کتب احادیث میں  مروی ہیں۔
پہلی دعا جو سرور کائنات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو سکھائی جب وہ مسجد نبوی میں قرض وغیرہ کی وجہ سے پریشان بیٹھے تھے، وہ کلمات یہ ہیں:

”اللَّھُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَھْرِ الرِّجَالِ‏“

ترجمہ: ”اے الله مىں تىرى پناه چاہتا ہوں فکر اور غم سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی سے اور سستی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی اور بخل سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے دباؤسے“۔
ان کلمات کو صبح وشام پڑھا کرے۔
دوسری دعا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو سکھائی اور فرمایا کہ اگر تیرے اوپر احد پہاڑ کے برابر قرض ہو اگر آپ اس دعا کا اہتمام کروگے، تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کا انتظام فرمائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل دعا تعلیم فرمائی:

”قُلِ اللّٰھُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ بِیَدِكَ الْخَیْرُ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ رحمن الدنيا والآخرة، تعطيھما من تشاء وتمنع منھما من تشاء، ارحمني رحمة تغنيني بھا عن رحمة من سواك“.

ترجمہ: اے اللہ! مالک تمام ملک کے، آپ ملک (کا جتنا حصہ) جس کو دینا چاہیں دے دیتے ہیں اور جس سے چاہیں ملک (کا حصہ) لے لیتے ہیں اور جس کو چاہیں غالب کر دیتے ہیں اور جس کو آپ چاہے پست کر دیتے ہیں، آپ ہی کے اختیار میں ہے سب بھلائی، بلاشبہ آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں، اے دنیا وآخرت کے مہربان بادشاہ! آپ جسے چاہیں (دنیا وآخرت) عنایت فرمائیں اور جس سے چاہیں دونوں روک دیتے ہیں، میرے اوپر ایسی رحمت فرما جس کے ذریعے سے آپ ماسواء کی رحمت سے مجھے مستغنی کردیں۔
لما في سنن أبي داؤد:
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ الله.... أَبِي سَعِيد الْخُدْرِي قَالَ دَخَلَ رَسُولُ الله -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمِ المُسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ ((يَا أَبَا أُمَامَةَ مَا لِي أَرَاكَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ فِي غَيْرِ وَقْتِ الصَّلَاةِ)). قَالَ هُمُومٌ لَزِمَتْنِي وَدُيُونُ يَا رَسُولَ الله قَالَ ((أَفَلَا أُعَلِّمُكَ كَلاَمًا إِذَا أَنْتَ قُلْتَهُ أَذْهَبَ الله عَزوَجَل هَمكَ وَقَضَى عَنْكَ دَيْنَكَ)). قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ الله. قَالَ ((قُلْ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ اللهُم إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْھمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ)). قَالَ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَذْهَبَ اللهُ عَزوَجَل هَمَّى وَقَضَى عَنِّى دَيْنِي. (كتاب الصلاة، باب في الإستعاذة، رقم الحديث:1555، ص:228، دار السلام)
وفي مجمع الزوائد:
وعن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ: ”ألا أعلمك دعاء تدعو به، لو كان عليك مثل جبل أحد دَينًا لأدى الله عنك؟ قل يا معاذ: اللھم مالك الملك، تؤتي الملك من تشاء وتنزع الملك ممن تشاء، وتعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير، إنك على كل شيء قدير، رحمن الدنيا والآخرة، تعطيھما من تشاء وتمنع منھما من تشاء، ارحمني رحمةً تُغنيني بھا عن رحمة من سواك“. رواه الطبراني في الصغير ورجاله ثقات.(كتاب الأدعية، باب الدعاء لقضاء الدين: رقم الحديث:17443: 218/10، دار الكتب العلمية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/300