بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

روضہ اطہر پر حاضری کے آداب

روضہ اطہر پر حاضری کے آداب

سوال

مدینہ منورہ میں جو لوگ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی قبر کے سامنے سے گزرتے ہیں ۔ اور روضہ اطہر پر حاضری دیتے ہیں تو حاضری کے آداب کیا ہیں اور سلام پڑھنا کس طرح بہتر ہے؟

جواب 

حضرت ملاعلی قاری رحمہ الله نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے روضہ اطہر پر حاضری کے آداب، درودوسلام پیش کرنے کے الفاظ اور طریقے بڑی تفصیل سے اپنی کتاب ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری میں ذکر فرمائے ہیں۔ مختصراً چند آداب اور درود وسلام کے صیغے ذکر کیے جاتے ہیں۔

جب آدمی مدینہ منورہ کی طرف چلے تو درود شریف کثرت سے پڑھتا رہے اور جوں جوں قریب ہوتا جائے اور زیادہ کثرت کرتا جائے، جب مدینہ منورہ کی عمارتوں پر نظر پڑے تو یہ دعا پڑھے: ”اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ وقایة لی من النارو أماناً من العذاب وسوء الحساب“۔

مستحب ہے کہ مدینہ منور میں داخل ہونے سے پہلے غسل کرے، پاک صاف عمدہ لباس جو پاس موجود ہو پہنے، اگر نئے کپڑے ہوں تو بہتر ہے۔ خوشبو لگائے شہر میں داخل ہونے سے پہلے پیادہ چلے۔ اور اس شہر کی عظمت کا خیال کرتے ہوئے نہایت خوش وخضوع ، تواضع، ادب اور حضور قلب کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہوا داخل ہو اور یہ پیش نظر رکھے کہ یہ وہ زمین ہے جس پر جابجا رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوئے ہیں۔

جب مسجد نبوی میں داخل ہونے لگے تو باب جبرئیل سے داخل ہو اور پہلے دائیں پاؤں رکھے اور درود شریف پڑھ کر ” اللھم افتح لی ابواب رحمتک“ پڑھے، پھرپہلے ریاض الجنة میں آکر دو رکعت تحیة المسجد کی پڑھے، یہ وہ جگہ ہے جو قبر شریف اور منبر شریف کے درمیان ہے، حدیث شریف میں آتا ہے: ریاض الجنة جنت کا ٹکڑا ہے، اس سے فارغ ہو کر الله تعالیٰ کا اپنی اس حاضری کی توفیق اور سعادت بخشی پر شکر ادا کرے، اور اپنے گناہوں سے توبہ واستغفار کرے۔ اس کے بعد روضہٴ اقدس کے پاس حاضر ہو اور سرہانے کی دیوار کے کونے میں جو ستون ہے اس سے تین چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو ،نہ بالکل جالیوں کے پاس جائے اور نہ ہی زیادہ دور بلاضرورت کھڑا ہو، اس طرح کہ رخ روضہٴ اقدس کی طرف اور پشت قبلہ کی طرف ہو اور یہ تصور کرے کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم لحد شریف میں قبلہ کی طرف چہرہ مبارک کیے ہوئے لیٹے ہیں اور پھر نہایت ادب کے ساتھ درمیانہ آواز سے نہ بہت پکار کر اور نہ بالکل آہستہ، سلام کرے۔ یہاں چند الفاظ درودوسلام لکھے جاتے ہیں۔

” السلام علیک أیھا النبی ورحمة الله وبرکاتہ، السلام علیک یا رسول الله، السلام علیک یا حبیب الله، السلام علیک باخیر خلق الله، السلام علیک یا صفوة الله، السلام علیک یا سید المرسلین، یا رسول الله إني أشھدأن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، وأشھد أنک عبدہ ورسولہ۔ أشھد انک بلغت الرسالة، وأدیت الامانة، ونصحت الامة، وکشفت الغمة فجزاک الله خیراً، جزاک الله عنا أفضل ماجازیٰ نبباً عن أمتہ۔ السلام علیک یا من ارسلہ الله رحمة للعالمین، السلام علیک یا مبشر المحسنین ( ارشاد الساری الی مناسک الملا علی القاری ص338)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی