بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حیلہ اسقاط کی شرعی حیثیت

حیلہ اسقاط کی شرعی حیثیت

سوال

آج کل جو نمازہ جنازہ کے دوران رسومات کیے جاتے ہیں، ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ مثلا حیلہ اسقاط وغیرہ ، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔شکریہ

جواب

مروّجہ حیلہ اسقاط بہت سارے شرعی مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے نا جائز اور بدعت ہے، مثلا:

(۱) مروّجہ حیلہ میں قرآن مجید کو فدیہ کا جزء بنایا جاتا ہے، حالاں کہ قرآن وحدیث اور فقہاء کرام کی عبارات میں کہیں بھی اس کا ذکر نہیں۔

(۲) حیلہ اسقاط میں حسب تصریح فقہاء قضاء نمازوں اور روزوں کا حساب ضروری ہے، تا کہ فعل دور اسی قدر کیا جائے، جب کہ عوام کے اسقاط میں یا تو دور ہوتا ہی نہیں اور یا صرف تین دفعہ ہوتا ہے، جس سے فدیہ کی صحیح مقدار پوری نہیں ہوتی۔

(۳) حیلہ اسقاط صرف ان اموات کے لیے جائز ہے، جن کا مال بالکل نہ ہو، یا ثلث مال سے وہ فدیہ پورا نہ ہوسکتا ہو، جب کہ عوام کے اسقاط میں غنی اور فقیر سب برابر ہیں۔

(۴) ثلث مال سے فدیہ ادا ہوسکتا ہو تو وصیت نہ کرنے کی صورت میں ورثاء میں سے بعض غائب یا نا بالغ ہوں تو ترکہ کے بعض مال کو اس حیلہ میں خرچ کرنا ورثاء کی بے جا حق تلفی ہے، جب کہ مروّجہ حیلہ میں ثلث مال سے فدیہ ادا ہوسکتا ہو یا نہیں، وصیت کی ہو یا نہیں، ورثاء ناراض ہوں یا راضی، بہر صورت زبردستی یہ حیلہ کیا جاتا ہے جو کہ سراسر شریعت کے خلاف ہے۔

(۵) لوگ اسقاط کو ایک رسم اور رواج سمجھ کر یا لوگوں میں بد نامی کے خوف سے کرتے ہیں، ثواب کی نیت بالکل نہیں ہوتی، تو عدمِ نیت کی صورت میں ثواب کہاں؟ بلکہ بعض مرتبہ لوگوں کو اصل مقصود کا علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ حیلہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

(۶) مالِ اسقاط کا مصرف فقراء ہیں، جب کہ مروّجہ حیلہ میں اصحابِ دائرہ اکثر مالدار ہوتے ہیں، جن کے لیے صدقات واجبہ کا لینا حرام ہے۔

(۷) اس حیلہ کے لیے ایک خاص وقت مقرر کیا گیا ہے، حالاں کہ شریعت اس قسم کی قید کی اجازت نہیں دیتی۔

(۸) اس میں فقراء کو صرف رسمی تملیک کروائی جاتی ہے، واقعی تملیک نہیں ہوتی جو کہ درست نہیں۔

(۹) اس سے فسادِ عقیدہ بھی لازم آتا ہے کہ عوام گناہوں پر دلیر ہوجاتی ہے، اور نماز و روزے کی کوئی پرواہ نہیں کرتی۔

(۱۰) عوام اسے فرض وواجب سمجھتی ہے، حالاں کہ یہ حیلہ زیادہ سے زیادہ مباح ہوسکتا ہے، اور ایک مباح بلکہ مندوب فعل کو بھی ضروری سمجھنے سے اس کا ترک واجب ہوجاتا ہے۔

لمافی الدر مع الرد:

"ولو لم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه لفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم.(قوله ولو لم يترك مالا إلخ) أي أصلا أو كان ما أوصى به لا يفي. زاد في الإمداد: أو لم يوص بشيء وأراد الولي التبرع إلخ وأشار بالتبرع إلى أن ذلك ليس بواجب على الولي ونص عليه في تبيين المحارم فقال: لا يجب على الولي فعل الدور وإن أوصى به الميت لأنها وصية بالتبرع، والواجب على الميت أن يوصي بما يفي بما عليه إن لم يضق الثلث عنه، فإن أوصى بأقل وأمر بالدور وترك بقية الثلث للورثة أو تبرع به لغيرهم فقد أثم بترك ما وجب عليه. اه."(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:73، ط: ايچ ايم سعيد).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 77/300