بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خریداری کے بعد بچ جانے والی رقم وکیل کے لیے حلال نہیں

خریداری کے بعد بچ جانے والی رقم وکیل کے لیے حلال نہیں

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ  ایک بندے نے دوسرے کو پیسے دیے کہ صابن لے کر آنا اور اس علاقے میں کلو ۱۲۰ کا مل رہا تھا، تو اس بندے نے تھوڑی سی محنت کی اور ہول سیل مارکیٹ سے صابن ۱۰۰ کا لیا، لیکن جس نے منگوایا تھا اس کو ۱۲۰ کا دیا، تو کیا اضافی رقم اس کے لیے حلال ہوگی؟ اس مسئلہ کی فقہی تکییف کیا ہوگی؟

جواب

وکیل کے لیے اضافی رقم حلال نہیں، لہٰذا وہ مؤکل کی ملک ہے، جس کا مؤکل کی طرف لوٹانا وکیل پر لازم ہے۔

لمافي الهداية:

«وصار كما أذا وكله ببيع عبده بألف، فباعه بألفين ....لأن الزيادة هناك بدل ملك المؤكل فتكون له».(كتاب الوكالة، باب الوكالة بالبيع والشراء: 5/491، 492، البشرى).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 170/36،38