بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج کب فرض ہوتاہے؟

حج کب فرض ہوتاہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ کن لوگوں پر حج فرض ہے، یاکن شرائط کی بناء پر حج فرض ہوتا ہے؟

جواب

حج فرض ہونے کے لیے سات شرائط ہیں۔

۱۔ مسلمان ہونا۔ ۲۔ حج کی فرضیت کو جاننا کہ اس پر حج فرض ہے ۳۔  عاقل ہونا ۴۔ بالغ ہونا ۵۔  آزاد ہونا ۶۔ حج کی استطاعت رکھنا(اتنی مقدار میں مال ہو کہ اس کے اہل وعیال کا خرچہ اور آمدورفت کا خرچہ پورا ہو سکے، راستہ پُرامن ہو)۷۔اشہر حج (حج کے مہینوں) کو پانا ،یہ شرائط جن میں پائی جائیں گی ان پر حج فرض ہو جائے گا۔

"شروط الوجوب وہی التی إذا وجدت بتمامہا وجب الحج وإلا فلا وہی سبعۃ: الإسلام، والعلم بالوجوب لمن فی دار الحرب والبلوغ والعقل والحریۃ والاستطاعۃ والوقت أی القدرۃ فی أشہر الحج أو فی وقت خروج أہل بلدہ علی ما یأتی".(رد المحتار، کتاب الحج ٢/٤٥،سعید)

"وإن کان صاحب ضیاع، إن کان لہ من الضیاع ما لو باع مقدار ما یکفی لزادہ وراحلتہ  ذاہبا وجائیا ونفقۃ عیالہ، وأولادہ ویبقی لہ من الضیعۃ قدر ما یعیش بغلۃ الباقی یفترض علیہ الحج، وإلا فلا۔۔۔۔۔۔وکل ذلک یشیر إلی اعتبار الفراغ من الحاجۃ الأصلیۃ".(الفتاوی التاتارخانیہ، کتاب الحج، الباب الاول فی بیان شرائط الوجوب ١/٣٢٧، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی