بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حج افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں

حج افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اشہر حج (حج کے مہینوں )میں آتا ہے، لیکن وہ قربانی نہیں کرتا ،کہتا ہے میں مفرد (حج افراد کرنے والا )ہوں،کیا یہ صحیح ہے کہ حج افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں ہوگی؟

جواب

مفرد بالحج جس نے صرف حج کا احرام باندھا ہے، اس کے لیے قربانی واجب نہیں ہے،بلکہ مستحب ہے ،اگر وہ قربانی نہ کرے اور حلق کرالے تو جائز ہے، ہدایہ کی عبارتوں سے معلوم ہوا ہے کہ مفرد کے لیے قربانی واجب نہیں ہے، مستحب ہے اگر وہ نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

"ثم یذبح إن أحب ثم یحلق أو یقصر لما روی عن رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام أنہ قال إن أول نسکنا فی یومنا ہذا أن نرمی ثم نذبح ثم نحلق ۔۔۔وإنما علق الذبح بالمحبۃ لأن الدم الذی یأتی بہ المفرد تطوع والکلام فی المفرد".(الھدایۃ، کتاب الحج ١٠/٢٥٠، شرکۃ علمیۃ).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی