جمرات کی رمی کے وقت کیا دعا مانگی جائے

جمرات کی رمی کے وقت کیا دعا مانگی جائے

سوال

کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کنکریاں مارتے وقت اگر کوئی دعا منقول ہو تو وہ بھی بتادیں۔

جواب

کنکری مارنے کے وقت تکبیر کہے، اور رمی کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر جائے اور قبلہ کی طرف رُخ کرے، اور اللہ کی حمد اور آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر اپنے لیے اور والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا و استغفارکرے۔
لما في إرشاد الساري:
’’فیحمداللہ تعالٰی، ویثنی علیہ، ویکثر ویہلل ویصلی علی النبيﷺ ویدعو بحاجۃ، ویرفع یدیہ حذو منکبیہ..... ویمکث کذلک...... ان یستغفر لنفسہ، ولأبویہ، وأقاربہ، ومعارفہ، وأحبائہ وسائر المسلمین في دعائہ في ھذہ الموقف لحدیث اللہم اغفر للحاج ولمن استغفر لہ الحاج‘‘. (فصل في صفۃ الرمي في ھذہ الأیام، ص:268،269، دارالکتب العلمیۃ بیروت)
وفي حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح:
’’ثم یقف عندھا داعیا بما أحب حامدا للہ تعالٰی مصلیا علی النبي صلی اللہ علیہ وسلم ویرفع یدیہ في الدعاء ویستغفر لوالدیہ وإخوانہ المؤمنین‘‘. (کتاب الحج، فصل في کیفیۃ ترتیب أفعال الحج، ص:737، قدیمي).فقط. واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:184/204