بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز جنازہ کے بعد اجتماعی دعا،میت کے ساتھ قرآن لے جانا،قبر میں عہد نامہ رکھنا

نماز جنازہ کے بعد اجتماعی دعا،میت کے ساتھ قرآن لے جانا،قبر میں عہد نامہ رکھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بارے میں کہ جنازے کے بعد بیٹھ کر اجتماعی دعا کرنا جائز ہے یا بدعت؟جب کہ بعض حضرات اس کو جائز سمجھتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں "إذاصلیت الجنازة فاخلصوا له الدعاء"إذا شرط فا جزائیہ ہے، شرط، جزا میں تغایر ہوتا تو کہتے ہیں،اس سے نماز جنازہ کے بعد دعا ثابت ہے،نیز میت کے ساتھ قرآن لے جانااور اس کے ساتھ قبر میں عہد نامہ رکھنا اس کا شریعت میں کیا حکم ہے،جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں واضح کریں۔

جواب

۱۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ وتابعین اور سلف صالحین نے ہزاروں جنازے پڑھائے ہیں، لیکن کسی سے بھی نمازِ جنازہ کے بعد اجتماعی دعا کرنا ثابت نہیں،اسی وجہ سے فقہائے احناف نے اس سے منع کیا ہے اور اسے مکروہ کہا ہے۔

باقی رہی یہ حدیث:إذا صلیتم علی المیت فاخلصوا له الدعاء تو یہ سنن أبی داوٴد اور سنن ابن ماجہ میں موجود ہے، شرط اور جزاء کے تغایر سے دعا بعد الجنازة کا اثبات درست نہیں، کیوں کہ شرط اور جزاء میں تغایر ہونا مسلم ہے، لیکن یہ تغایر کبھی ذات اور ذات کا ہوتا ہے، جیسے: فإذا طعتم فانتشروا کھانا اور انتشار دونوں کی حقیقت الگ ہے، اور کبھی یہ تغایر جزء وکل ہوتا ہے، جیسے: وإذا قرأت القرآن فاستعذ بالله من الشیطان الرجیم مطلق قرآن پڑھنا کل ہے اور صرف تعوذ پڑھنا جزء ہے، اور کبھی یہ تغایر تقیید واطلاق کا ہوتا ہے، جیسے: وإذا سألتموهن متاعا فاسئلوهن من وراء حجاب جملہ شرطیہ میں سوال مطلق ہے اور جملہ جزائیہ میں سوال  من وراء حجاب  کے ساتھ مقید ہے، تو اسی طرح مطلق نمازِ جنازہ (جس میں ثناء، درود شریف، دعا، تکبیرات اور با وضو قبلہ رخ ہو کر قیام وغیرہ شامل ہے) کل ہے اور میت کے لیے دعا جزء ہے، اور شرط وجزاء میں اس قدر تغایر کافی ہے۔

ثانیا دوسری احادیث کے پیشِ نظر  إذا صلیتم علی المیت  إذا أردتم الصلاة علی المیت  کے معنی میں ہے، کما فی قوله تعالی: وإذا قرأت القرآن  وقوله تعالی: إذا قمتم إلی الصلاة۔

ثالثاً اس حدیث سے دعا بعد الجناز کا اثبات اس حدیث کی روح کے خلاف ہے، کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ ہے کہ جب تم میت پر جنازہ پڑھو تو اس میں نہایت اخلاص سے دعا کرو، یہ معنی نہیں کہ نمازِ جنازہ تو بغیر اخلاص کے پڑھو، اور اس کے بعد اخلاص سے دعا کرو۔

رابعًا ایک روایت میں صراحت ہے کہ اخلاص فی الدعاء نماز کے اندر مراد ہے: أن زید بن أسلم حدّثه أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: فی الصلاة علی المیت أخلصوه بالدعاء.(المدوّنة الکبری، باب ما جاء فی القرائة علی الجنائز: 1/303، مکتبة نزار مصطفی الباز)

خامساً کسی بھی فقیہ یا محدث نے اس روایت سے دعا بعد الجنازة پر استدلال نہیں کیا۔

۲۔ میت کے ساتھ قرآن لے کر جانا:

میت کے ساتھ قرآن چوں کہ مروّجہ حیلہ اسقاط کے لیے لے جایا جاتا ہے، اس لیے درست نہیں، اگر حیلہ اسقاط کے لیے نہ ہو تو تب بھی اس کے لیے جانے کی ضرورت نہیں۔

۳۔ قبر میں میت کے ساتھ عہد نامہ رکھنا:

قبر میں میت کے ساتھ عہد نامہ رکھنا تلویث بالنجاسة کے اندیشہ کی وجہ سے مکروہ ہے۔

"لا يقوم بالدعاء بعد صلاة الجنائز؛ لأنه مرَّة".(الفتاوى البزازية على هامش الهندية، في الجنائز: 4/80، رشيدية)

"وقد أفتى ابن الصلاح بأنه لا يجوز أن يكتب على الكفن يس والكهف ونحوهما خوفًا من صديد الميت ............ وقدّمنا قبيل باب المياه عن الفتح: أنه تكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم والمحاريب، والجدران والفرش، وما ذاك إلا لاحترامه وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة، فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت، فتأمل".(رد المحتار، كتاب الصلاة قبيل باب الشهيد: 3/186، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 77/300