اَن پڑھ شخص کے لیے تلبیہ کا حکم

اَن پڑھ شخص کے لیے تلبیہ کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کو پڑھنا، لکھنا نہیں آتا تو اب ایسا شخص تلبیہ کیسے پڑھے؟کیا شریعت مطہرہ میں ایسے شخص کے لیے کوئی رخصت موجود ہے؟

جواب

اول تو مسنون تلبیہ کے الفاظ سیکھنے کی کوشش کرے ،اگر نہیں پڑھ سکتا تو کوئی دوسرا شخص بھی اس کی اجازت سے اس کی طرف سے پڑھ سکتا ہے۔
لما في بدائع الصنائع:
’’وتجوز النیابۃ في التلبیۃ عند العجز بنفسہ [بأمرہ] بلا خلاف، حتی لو توجہ یرید حجہ الإسلام، فأغمي علیہ قلبی عنہ أصحابہ، وقد کان أمرھم بذلک حتی لو عجز بنفسہ، یجوز بالاجماع‘‘. (کتاب الحج: فصل فیما یصیر بہ محرما:153/3، رشیدیۃ).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتویٰ نمبر:193/ 184