بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسمگل شدہ اشیاء کی خرید وفروخت کا حکم

اسمگل شدہ اشیاء کی خرید وفروخت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل لوگ کاروبار میں کپڑے، موبائلز، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کو باہر ممالک سے اسمگلنگ کے ذریعے لا کر خرید وفروخت کا کاروبار کرتے ہیں،حالاں کہ ایک طرف یہ حلال کاروبار ہے اور دوسری طرف ملکی حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے،یہ کاروبار بہت عام ہوا ہے، ہر جگہ آپ کو غیر ملکی اور اسمگل شدہ اشیاء ملتے ہیں،میرا سوال یہ ہے کہ غیر ملکی اشیاء کو حکومتی اجازت کے بغیر اسمگل کر کے خرید وفروخت کا کاروبار کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی سے بچنا سب پر لازم ہے، کیوں کہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کی شریعت میں اجازت نہیں ہے، مگر جو شخص کسی ملک میں اس ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کر کے کوئی چیز خرید کر لاتا ہے، تو اس کے لیے وہ حلال ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو، لہٰذا صورت مسئولہ میں غیر ملکی اشیاء کی اسمگلنگ کرنا اور پھر اس کی خرید وفروخت کرنا درست نہیں، کیوں کہ یہ حکومت کے قانون کی خلاف ورزی اور نقض عہد ہے، البتہ آمدنی حلال ہے۔

لما في التنزیل:

﴿ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة﴾. (البقرة: 195)

وفي روح المعاني: ﴿يأيها الذين آمنوا﴾ بعد ما أمر سبحانه ولاة الأمور بالعموم أو الخصوص بأداء الأمانة والعدل في الحكومة، أمر الناس بإطاعتهم في ضمن إطاعته عز وجلّ وإطاعة رسوله صلي الله عليه وسلم». (سورة النساء: 59، 6/104، مؤسسة الرسالة)

وفي شرح مجلة الأحكام:

«كل يتصرف في ملكه كيفما شاء، لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال». (الفصل الأول: في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك، رقم المادة: 1192، 3/190، دار الكتب العلمية)

وفيه أيضًا:

«لا يمنع أحد من التصرف في ملكه ما لم يكن فيه ضرر فاحش للغير». (رقم المادة: 1197، 3/199، دار الكتب العلمية)

وفي تكملة فتح الملهم:

«إن المسلم يجب عليه أن يطيع أميره في الأمور المباحة، فإن أمر الأمير، بفعل مباح، وجبت مباشرته، وإن نهى عن أمر مباح، حرم إرتكابه،..... ومن هنا صرّح الفقهاء بأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجب». (كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية، 3/363، رقم الحديث: 4730، مكتبة دار العلوم كراتشي).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر : 176/36