بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

احرام میں سوتے وقت منہ پر کپڑا ڈالنا

احرام میں سوتے وقت منہ پر کپڑا ڈالنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ محرم حالتِ احرام میں رات کو آرام کرتے وقت چہرے پر کپڑا ڈال سکتا ہے یا نہیں؟ نیند کی حالت میں اگر غیر اختیاری طور پر منہ  پر کپڑا ڈال لیا تو کیا حکم ہے؟

جواب

حالت احرام میں چہرے پر کپڑا نہیں ڈال سکتا، اگر پوری رات چہرہ ڈھانپے رہا تو دم آئے گا اور اگر رات کا کچھ حصہ اپنے  چہرے پر کپڑا ڈالے رہا تو صدقہ لازم آئے گا۔

"ولو غطی المحرم رأسہ أو وجہہ یوما فعلیہ دم، وإن کان أقل من ذلک فعلیہ صدقۃ کذا فی الخلاصۃ وکذا إذا غطاہ لیلۃ کاملۃ سواء غطاہ عامدا أو ناسیا أو نائما کذا فی السراج الوہاج."(الھندیۃ، کتاب المناسک، الفصل الثانی فی اللبس ١/٢٤٢،رشیدیۃ)

"ولا یغطی المحرم رأسہ ولا وجھہ۔۔۔ والمحرمۃ لا تغطی وجھھا وان فعلت ذلک إن کان یوما إلی اللیل فعلیھا دم وإن کان أقل من ذلک فعلیھا صدقۃ".(الفتاوی التاتارخانیہ، کتاب الحج، نوع منہ فی بس المخیط ١/٣٧١، قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی