معتکف غسل جمعہ کے لئے مسجد سے جاسکتا ہے یا نہیں؟

معتکف غسل جمعہ کے لئے مسجد سے جاسکتا ہے یا نہیں؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ معتكف جمعہ كے دن غسل كرنے كے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ احسن الفتاوی جلد :٤، ص ٥١٢ اور فتاوى محمودیہ ج١٠، ص: ٢٤٣، ٢٤٤ مىں جائز لكھا ہے۔ جبکہ خیر الفتاوی  :ج4، ص:133اور فتاوی رحیمیہ:  ج7، ص: 276ٍاور آپ کے مسائل ان کا حل: ج4، ص: 633 اور کفایۃ المفتی: ج4، ص: 243، 244 میں عدم جواز کا قول منقول ہے۔ جبکہ فتاوی دار العلوم :ج6، ص: 502اور فتاویٰ حقانیہ:ج4، ص: 200میں بھی جواز کا قول منقول ہے ،جب کہ ہمارے علاقے میں بھی معتکف جمعہ کے غسل کے لیے مسجد سے باہر نکلتے ہیں۔
وضاحت:جمعہ کے دن غسل سے سنت غسل جمعہ مراد ہے۔

جواب

واضح رہے کہ معتکف کے لئے غسل جمعہ کی اجازت کی صراحت کتب فقہ میں نہیں، البتہ اتنی بات مذکور ہے کہ معتکف ضرورت طبعیہ اور ضرورت شرعیہ کے لئے مسجد سے باہر جا سکتا ہے اور غسل جمعہ چوں کہ نہ ضرورت طبعیہ میں سے ہے نہ شرعیہ میں سے، اس لئے غسل جمعہ کے لئے مسجد سے باہر جانا جائز نہیں۔
لما في كنز الدقائق:
’’ولا يخرج منه إلا لحاجة شرعية كالجمعة أو طبيعية كالبول والغائط‘‘.(كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ص: ٧١، حقانية ملتان)
(وكذا في الاختيار:كتاب الصوم، باب الاعتكاف: ١/١٧٦، قديمى كتب خانه).
(وكذا في التنوير مع الدر:كتاب الصوم، باب الاعتكاف: ٣/٥٠٠، ط: رشيدية).فقط.واللہ اعلم بالصواب
126/17
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی