مسنون اعتکاف فاسد ہوجائے تو اس کی قضاء کا کیا طریقہ ہے؟

 مسنون اعتکاف فاسد ہوجائے تو اس کی قضاء کا کیا طریقہ ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں علما ئے کرام اس  مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی کا مسنون اعتکاف فاسد ہوجائے تو اس کے قضاء کا کیا طریقہ ہے؟

جواب

مسنون اعتکاف کو شروع کر کے فاسد کرنے سے اس کی قضاء واجب ہوجاتی ہے، اور قضاء کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر دن کے وقت فاسد ہوا ہوتو روزہ رکھ کر ایک دن کی قضاء ضروری ہے، اور اگر رات کے وقت فاسد ہوا ہو تو ایک دن اور ایک رات کی قضاء ضروری ہے، رات کی قضاء تو  اعتکاف کے فساد کی وجہ سے جبکہ دن کی قضاء اس لئے ہے کہ اعتکاف مسنون میں روزہ رکھنا ضروری ہے اور روزہ دن ہی میں رکھا جاتاہے۔
وفي الرد:
’’(قوله: وحرم……) لأنه إبطال للعبادة وهو حرامٌ (قوله أما النفل) أي: الشامل للسنة المؤكدة ح. قلت: حرّمنا ما يفيد اشتراط الصوم فيها بنائ علىٰ أنها مقدرة بالعشر الأخير، ومفاد التقدير أيضًا الزوم بالشروع تامل، ثم رأيت المحقق ابن الهمام قال: ومقتضى النظر لو شرح في المسنون أعنى: العشر الأوخر بنيته ثم أفسده ان يجب تضاده تخريجا على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصاعة ناويا أربعا على قولهما……
والحاصل: أن الوجه يتقضى لزوم كل يوم شرع فيه عندهما بناء على لزوم صوم بخلاف الباقي، لان كل يوم بمنزلة الشفع من النافلة الرباعية، وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه، تامل‘‘. (كتاب الصوم، باب الاعتكاف: ٣/٥٠٠، ٥٠١: رشيدية)
(وكذا في البحر، كتاب الصوم: باب الاعتكاف، ٣/٥٢٤: رشيدية).فقط.واللہ اعلم بالصواب

116/301
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

 - 
Arabic
 - 
ar
Bengali
 - 
bn
German
 - 
de
English
 - 
en
French
 - 
fr
Hindi
 - 
hi
Indonesian
 - 
id
Portuguese
 - 
pt
Russian
 - 
ru
Spanish
 - 
es
Urdu
 - 
ur