بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مرغی کو ذبح کرکےدوسری ذبح شدہ مرغی پرڈالنا

مرغی کو ذبح کرکےدوسری ذبح شدہ مرغی پرڈالنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ  ہمارے علاقوں میں قصائی جب مرغی کو ذبح کرتے ہیں تو وہ مرغی حالت اضطراب میں ہوتی ہے یعنی تڑپتی ہے پھر قصائی دوسرے مرغی کو ذبح کر کے اس پہلے والے کے اوپر پھینک دیتا ہے تو اس مرغی کا گوشت کیسا ہوگا حلال ہوگا یا حرام، جب کہ بعض علماء ہمارے علاقے کے اس کو مکروہ تحریمی قرار دیتے ہیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں قصائی کا یہ فعل (پہلی مرغی کے سانس نکلنے سے پہلے اس پر دوسری مرغی ڈالنا) مکروہ تنزیہی ہے، البتہ جب پہلی مرغی سے مکمل سانس نکل جائے، تو دوسری مرغی کو پہلی مرغی کے اوپر ڈالنے میں حرج نہیں، یا قصائی ہر مرغی کے لیے الگ ڈرم وغیرہ کا انتظام کرے۔

لما في الهداية:

ومن بلغ بالسكين النخاع أو قطع الرأس كره له ذلك وتوكل ذبيحته .... والحاصل أن ما فيه زيادة إيلام لا يحتاج إليه في الذكاة مكروه ويكره أن يجر ما يريد ذبحه برجله إلى المذبح وأن تنخع الشاة قبل أن تبرد يعني تسكن من الاضطراب وبعده لا ألم فلا يكره النخع والسلخ إلا عن الكراهة لمعنى زائد وهو زيادة لألم قبل الذبح أو بعده فلا يوجب التحريم فلهذا قال توكل ذبيحته. (كتاب الذبائح: 4، 437، 438، رحمانية)

وفي الشامية:

وكره كل تعذيب بلا فائدة مثل (قطع الرأس والسلخ قبل أن تبرد) أي تسكن عن الاضطراب. (كتاب الذبائح: 9/495، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 170/98،100