بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مخلوط نظام تعلیم میں تعلیم حاصل کرنے کا حکم

مخلوط تعلیمی نظام میں تعلیم حاصل کرنے کا حکم

سوال

کیا مستورات کا مخلوط نظام تعلیم میں مجبوری یا بغیر مجبوری کے انجینئرنگ یا میڈیکل یا سکول یا کالج کی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے یا نا جائز؟شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

عورت کو ضرورت کے مطابق دینی اور دنیوی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے، لہذا اگر کوئی عورت دنیوی اعلی تعلیم، یا میڈیکل وغیرہ کی تعلیم اس غرض سے حاصل کرتی ہیں کہ ان علوم کو حاصل کر کے مسلمان عورتوں کی خدمت کریں گی، تو ان علوم کو حاصل کرنے میں بذاتہ کوئی حرمت وکراہیت نہیں، البتہ حدود شرع کی پابندی ضروری ہے، ان علوم کی تحصیل اور بعد میں اس کے استعمال میں مکمل پردے اور احکام شریعت کی رعایت ضروری ہے، لیکن دنیاوی اعلی تعلیم کے حصول اور بعد میں اس کے استعمال کا مروّجہ طریقہ اور ماحول (مخلوط نظام تعلیم) حدود شرع سے متجاوز ہے، بے شمار مفاسد اور فتنے اس میں موجود ہیں، لہذا اس کا عمومی مشورہ نہیں دیا جاسکتا۔

اسلام عورتوں کی تعلیم کی مخالفت نہیں کرتا، ان کو تعلیم دی جائے، لیکن تعلیم وہ ہے جو ان کی فطرت، لیاقت، ان کی قوت وفکر کی مناسب ہو، اور ان کی عفت کی حفاظت میں معاون ہو، ایسی تعلیم نہ ہو جو عورت کو اس کے فطری فرائض (امور خانہ داری اور نسل انسانی کی پرورش) سے ہی متنفر کردے، مرد وعورت کے فرق کو ہی مٹا دے، اور معاشرے میں فتنے کا باعث ہو۔

عورت کے پڑھانے اور ڈاکٹری کے پیشے میں بھی اس بات کا اہتمام بہت زیادہ ضروری ہے کہ مکمل شریعت کی پاسداری ہو، پردے کا مکمل اہتمام ہو، مخلوط اور غیر شرعی ماحول نہ ہو، اور ڈاکٹری کے پیشے میں مرد حضرات اور مرد مریضوں سے سوائے ضرورت اجتناب کیا جائے، بصورت دیگر یہ عمل درست نہ ہوگا۔

لما في التنویر مع الرد:

"(وللحرة جميع بدنها خلا الوجه والكفين، والقدمين) على المعتمد، وصوتها على الراجح". قال الشامي: قوله:على الراجح ....ومقابله ما في النوازل نغمة المرأة عورة، وتعلمها القرآن من المرآة أحب ....فلا يحسن أن يسمعها الرجال".(كتاب الصلاة، مطلب في ستر العورة: 2/96، رشيدية)

وفي الدر مع الرد:

"وينبغي أن يعلم امرأة تداويها؛ لأن نظر الجنس إلى الجنس أخف.قوله:(ينبغي ....)وقال في الجوهرة: إذا كان المرض في سائر بدنها غير الفرج، يجوز النظر إليه عند الدواء؛ لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج، ينبغي أن يعلم امرأة تداويها...".(كتاب الحظر والإباحة: 9/612، دار المعرفة)

وفي زاد المعاد:

"قال ابن حبيب في "الواضحة": حكم النبي صلي الله عليه وسلم بين علي بن أبي طالب رضي الله عنه وبين زوجته فاطمة رضي الله عنها حين اشتكيا إليه الخدمة، فحكم على فاطمة بالخدمة الباطنة خدمة البيت، وحكم على علي بالخدمة الظاهرة، ثم قال ابن حبيب: والخدمة الباطنة: العجين والطبخ، والفرش، وكنس البيت، واستقاء الماء، وعمل البيت كله".(فصل في حكم النبي صلي الله عليه وسلم في خدمة المرأة لزوجها: 989، دار الفكر).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 155/92