بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

مایوں کی رسم کاحکم

مایوں کی رسم کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ مایوں ایک رسم ہے، جس میں دلہن کو سلا ہوا جوڑا پہنایا جاتا ہے اور اس پر کچھ رنگ وغیرہ چھڑک دیا جاتا ہے ۔ جوڑا پہنانا اور رنگ چھڑکنا جائز ہے؟

جواب

”مایوں “ ایک فضول رسم ہے، جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں او رچوں کہ یہ رسم کئی خرافات او رمنکرات پر مشتمل ہوتی ہے،اس لیے اس کا گناہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ وہ منکرات مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔ اس رسم میں دلہن اپنے اعزّہ و اقارب حتی کہ اپنے محارم یعنی بھائی ، والد اور چچا وغیرہ سے پردہ کرتی ہے او راپنے والد، بھائی اور چچا وغیرہ سے پردہ کرنے کو ضروری اور لازمی سمجھنا بدعت اور سخت گناہ ہے۔

۲۔اس رسم کے موقعہ پر دلہن کے محلے اور قرب وجوار والی عورتیں دلہن کے واسطے خورد ونوش کی اشیا ءجمع کرنے کو ضروری اور لازمی سمجھتی ہیں، اول تو ایک غیر ضروری چیز کو ضروری سمجھنا بدعت ہے، نیز ان میں سے اکثر عورتیں اپنی دلی رضا مندی سے یہ اشیا ءنہیں دیتی، بلکہ رسم ورواج سے مجبور ہو کر دیتی ہیں ، تو اس کھانے کو کھانا   ناجائز اور ان کے لیے دینا ناجائز ہے۔

۳۔ اس رسم کے موقعے پر عورتیں دلہن کو پیسے دیتی ہیں اور یہ سب کچھ ادلے بدلے کی وجہ سے کرتی ہیں، کہ آج اس نے دیا تو کل یہ دے گی اور یہ نیوتہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو کہ ناجائز ہے۔

۴۔ اس رسم کو مختلف قسم کے مشرکانہ توہمات کے تحت کیا جاتا ہے، جب کہ ایسے وہموں کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں،غرض یہ رسم چوں کہ بہت سے خرافات ومنکرات کا سبب ہے، اس لیے اس سے بچنا لازم اور ضروری ہے ۔ اﷲ ہمیں سنت اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

''(البدعۃ) مَا أُحْدِثَ عَلَی خِلَافِ الْحَقِّ الْمُتَلَقَّی عَنْ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِلْمٍ أَوْ عَمَلٍ أَوْ حَالٍ بِنَوْعِ شُبْہَۃٍ وَاسْتِحْسَانٍ وَجُعِلَ دِینًا قَوِیمًا وَصِرَاطًا مُسْتَقِیمًا.''(رد المحتار، باب الإمامۃ١/٥٦٠، سعید)

'' لایجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعی.'' ( الفتاوی العالمگرییہ، کتاب الحدود٢/١٦٧، رشیدیہ)
''عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَہُ وَکَاتِبَہُ وَشَاہِدَیْہِ وَقَالَ ہُمْ سَوَاء ٌ.'' (مسلم، کتاب الماقاۃ المزارعۃ، باب الربا٢٠/٢٧، قدیمی). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی