بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

روزے یا نماز کے دوران حیض آجائے تو عورت کیا کرے؟

روزے یا نماز کے دوران حیض آجائے تو عورت کیا کرے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ یہ ہے کہ رمضان المبارک میں افطار کو 15 یا 10 یا 05 منٹ باقی ہے اس حالت میں عورت کو حیض آجائے تو یہ عورت امساک کرے گی یا نہیں اور یہ امساک کیا ہے واجب ہے یا سنت اور اگر امساک نہیں کیا، بلکہ 05 منٹ پہلے یا 10 منٹ پہلے اپنی افطار کرلیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ دوسرا یہ ہے کہ یہ عورت اس دن کے روزے کی قضا کرے گی یا نہیں؟ تیسرا یہ ہے کہ اگر یہی حالت نماز میں در پیش آجائے تو اس کا کیا طریقہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی عورت کو روزے کی حالت میں حیض آجائے خواہ اول وقت میں ہو یا آخر وقت میں تو روزہ فاسد ہوجائے گا، اور کھانے پینے کی اجازت ہوگی، اور اس عورت کے لیے امساک کرنا نہ واجب ہے نہ سنت، جس روزے میں حیض آیا ہے اس کی قضاء دیگر ایام حیض کے روزوں کی طرح واجب ہے۔

اگر فرض نماز میں حیض آجائے تو قضاء کرنا واجب نہیں ہے، البتہ نفل نماز کے دوران حیض آجائے، تو قضاء کرنا واجب ہوگی۔

لما في التنوير مع الدر:

يمنع الصلاة مطلقا ولو سجدة شكر وصومًا وجماعًا وتقضيه لزومًا دونها للحرج، ولو شرعت تطوّعًا فيما فحاضت قضتهما.

وفي الرد تحته:

(ولو شرعت فيهما) أي في الصلاة والصوم؟ ففي تقضيه دون الصلاة .... وهل يكره لها التشبه بالصوم أم لا؟ مال بعض المحقيقين إلى الأول؛ لأن الصوم لها إحرام فالشبه مثله. واعترض بأنّه يستحب لها القعود في مصلاه وهو تشبه بالصلاة.(كتاب الطهارة، باب الحيض: 1/532، 533، رشيدية كوئته)

وفي التاتارخانية:

وإذا حاضت المرأة في آخر الوقت أو صارت نفساء وهو وقت لو كانت ظاهرةً يمكنها أن تصلي فيه أو لا يمكنها يسقط عنها فرض الوقت. ومنها: لو شرعت في صلاة التطوع أو الصوم فحاضت تقضي. (كتاب الطهارة، باب الحيض: 1/482، فاروقيه).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 154/45