بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رات کے وقت جھاڑولگانا اور آئینہ دیکھنے کا حکم

رات کے وقت جھاڑولگانا اور آئینہ دیکھنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعرات کے دن کپڑےنہیں  دھونے چاہییں، او ررات کے وقت جھاڑو نہیں لگانا چاہیے، اور رات کے وقت آئینہ نہیں دیکھنا چاہیے ، اگر کنگھے کا ایک دانت بھی ٹوٹ جائے تو وہ استعمال نہیں کرنا چاہیے، اور جھاڑو کو سیدھا کھڑا نہیں کرنا چاہیے کیا یہ باتیں درست ہیں؟ پیالے کا کنارہ ٹوٹ گیا ہو تو اس میں چائے نہیں پینی چاہیے۔

جواب

مذکورہ تمام باتیں محض توہم پر مبنی ہیں، شریعت میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے، محض توہم کی بناء پر کسی کام کو کرنا ،یانہ کرنا صحیح نہیں ہے،البتہ آخری مسئلہ کا حکم یہ ہے کہ جس پیالے کا کنارہ ٹوٹ جائے تو اسی جگہ سے منہ  لگا کر پینے سےآپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔(ابوداؤد،ص:۱۶۷ ،ج:۲)کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ سے پینے میں منہ کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہے، نیز عموماً اس جگہ کچرہ وغیرہ جمع ہو جاتا ہے ،جس کو منہ لگانا مناسب نہیں ہے۔

''قال العلامۃالمنادی فی فیض القدیر تحت حدیث، ''من أحد فی أمرنا ھذا:أی أنشأ واحترع والتی بأمر حدیث من قبل نفسہ۔۔ (فھو مردود) أی مردود علی فاعلہ لبطلانہ.'' (١١/٥٥٩٤، فراز مصطفی)

''عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ نَہَی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَۃِ الْقَدَحِ وَأَنْ یُنْفَخَ فِی الشَّرَابِ.'' ( ابوداود، کتاب الاشریۃ، باب فی الشرب من ثلمۃ القدح ٢/١٦٧، امدادیہ، ملتان). فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی