بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دولہےکو نوٹوں کا ہار پہنانا

دولہےکونوٹوں کا ہار پہنانا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ شادی میں دولہا کو نوٹوں کا  ہار پہنانا کیسا ہے؟

جواب

شادی کے موقع پر دولہا کو پھولوں اور روپیوں کا ہار پہناناکئی وجوہ کی بنا ءپر شرع کے خلاف ہے:

۱۔اس میں محض ریا ونمود اور شان وشوکت کا اظہار ہے۔

۲۔ہا رپہننا عورتوں کے ساتھ خاص ہے ،کیوں کہ ہار پہننے میں گلے کی زیب وزینت ہے اور یہ عورتوں کا مخصوص فعل ہے۔

۳۔تبذیر اور فضول خرچی ہے

۴۔محض زیب وزینت کے لیے ڈالا جاتا ہے اور بناؤ سنگھار یہ عورتوں کا خاصہ ہے مردوں کا نہیں۔

۵۔ ہندوانہ رسم ہے کہ ہندو اپنی خوشی کے مواقع پر گلے میں ہار ڈالتے ہیں۔

۶۔نوٹوں والے ہار میں تمام بڑے نوٹوں میں تصویریں ہوتی ہیں ، جس کی حرمت بالکل واضح ہے۔

۷۔یہ ایک فضول حرکت ہے، جس سے کچھ حاصل نہیں دولہا کو خواہ مخواہ ایک بے فائدہ، جھنجھٹ میں گرفتار کرنا ہے۔

۸۔گناہ پر برقرار اور قائم رہنا اور اسے اچھا جاننا جس کی مذمت حدیث میں صاف صاف مذکور ہے،اس کے علاوہ یہ کئی دوسرے گناہوں کا مجموعہ ہے؛ لہٰذا ان تمام خلاف شرع باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی مسلمان کے شایان شان نہیں کہ وہ ان لغویات کو اپنائے اور خلاف شرع فعل کا ارتکاب کرے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی