بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیعت کا اہل کون ہے ؟فاسق شخص کی بیعت کا حکم

بیعت کا اہل کون ہے ؟فاسق شخص کی بیعت کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ۱۔ بیعت کس کی کی جائے؟

۲۔ جو شخص ایک دفعہ بیعت کرلے تو کیا وہ دوبارہ دوسری جگہ بیعت کر سکتا ہے؟

۳۔ جس کی بیعت کی جائے اگر وہ شریعت کے تابع نہ ہو یا وہ کسی کبیرہ گناہ میں مبتلا ہو مثلا زنا کاری وشراب نوشی وغیرہ میں تو اس کی بیعت کی حیثیت کیا ہوگی؟

جواب

(۱) واضح رہے کہ جس پیر سے بیعت کی جائے، اس کے اندر مندرجہ ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے:

۱۔ متقی پرہیزگار ہو یعنی تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بچنے والا ہو۔

۲۔ اللہ کی معرفت حاصل ہو۔

۳۔ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔

۴۔ اللہ کے احکامات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا پابند ہو اور بدعتی نہ ہو۔

۵۔ نفسانی خواہشات سے دور ہو۔

۶۔ اچھے اخلاق سے مزیّن ہو، بد اخلاقی سے دور ہو۔

۷۔ کسی اللہ والے کی طرف سے اسے بیعت کرانے کی اجازت ہو۔

(۲) جس شخص نے ایک پیر سے بیعت کی ہو، تو اس کے لیے دوسری جگہ بیعت کرنا مناسب نہیں، إلا یہ کہ پہلا پیر شرع کا پابند نہ ہو۔

(۳) اگر فاسق پیر سے بیعت کرلی ہو، تو اس بیعت کو ختم کردے اور اس کی صحبت سے دور رہے۔

لما في روح المعاني:

﴿ومن يكن الشيطان﴾ والمراد به إبليس وأعوانه الداخلة والخارجة من قبيلته والناس التابعين له، أو من القوى النفسانية والهوى وصحبة الأشرار، أو من النفس والقوى الحيوانية وشياطين الإنس والجن ﴿له قرينا﴾ أي صاحبا وخليلا في الدنيا ﴿فساء﴾ أي فبئس الشيطان أو القرين ﴿قرينًا﴾ لأنه يدعوه إلى المعصية المؤدّية إلى النار ..... والغرض من هذه الجملة التنبيه على أن الشيطان قرينهم فحملهم على ذلك وزيّنه لهم، وجوّز أن يكون وعيدًا لهم بأن يقرن بهم الشيطان يوم القيامة في النار، فيتلاعنان ويتباغضان وتقوم لهم الحسرة على ساق».(سورة النساء: 6/27، الآية: 38، مؤسسة الرسالة)

وفي إعلاء السنن:

«قال العبد الضعيف: تزكية الأخلاق من أهمّ الأمور عند القوم، وهي المقامات عندهم، وبها امتازوا عن غيرهم، وبها عرفوا، ومن أمعن النظر في الكتاب والسنة عرف موضع الأخلاق من الدين كموضع الآس من البناء، ولا يتيسّر ذلك إلا بالمجاهدة على يد شيخ كامل قد جاهد نفسه، وخالف هواه، وتخلّى عن الأخلاق الذميمة، وتحلّى بالأخلاق الحميدة ومن ظنّ من نفسه أنّه يظفر بذلك بمجرد العلم ودرس الكتب فقد ضلّ ضلالًا بعيدًا، فكما أن العلم بالتعلم من العلماء كذلك الخلق بالتخلّق على يد العرفاء، فالخلق الحسن صفة سيد المرسلين، وأفضل أعمال الصديقين، وهو على التحقيق شطر الدين وثمرة مجاهدة المتقين، ورياضة المتعبّدين».(باب الترهيب عن مساوى الأخلاق والترغيب في مكارم الأخلاق: 18/453، 454، إدارة القرآن).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر: 154/66،68