بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اپریل فول منانے کا حکم

اپریل فول منانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ یکم اپریل کو دھوکا دے کر اور جھوٹ بول کر لوگوں کو احمق بنایا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کو ”اپریل فول“ کہا جاتا ہے،بعض لوگ اس رسم کو منانے کا اہتمام کرتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ ”اپریل فول“منانا درست ہے یا نہیں؟

جواب

یہ رسم چوں کہ بہت سی قباحتوں کا مجموعہ ہے اس لیے اس کا منانا شریعت میں ناجائز اور حرا م ہے۔

پہلی قباحت:ان قباحتوں میں سے ایک قباحت یہ ہے کہ ان رسموں میں عیسائیوں کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے، اس لیے کہ اپریل فولمنانے کی رسم ان سے چلی آرہی ہے اور شریعت مطہرہ میں ان کی مشابہت اختیار کرنے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اگرچہ ان کے ساتھ مشابہت کو آج کل گناہ تصور نہیں کیا جاتا، بلکہ بعض مغربی تہذیب کے دل دادہ اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم موجودہ دور کے تقاضوں کو ساتھ لے کر چلتے ہیں اور یہ جدید دور کا تقاضا ہے، اس لیے ہم بھی اپنے آپ کو اس دور کے ساتھ چلاتے ہیں،لیکن یاد رہے کہ کامیابی اتباع اسلام میں ہے، نہ کہ غیر اسلامی رسموں کے اتباع میں، اسلام غیروں کی مشابہت سے منع کرتا ہے،حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی قیامت کے دن اس قوم کے ساتھ اس کا حشر ہوگا،حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے میرے بدن پر دو کپڑےکسم سے رنگے ہوئے دیکھے، تو ارشاد فرمایا کہ بے شک یہ کپڑے کافروں کے ہیں ان کو مت پہنو،ان کے علاوہ ذخیرہ احادیث میں بہت بڑی تعداد ایسی احادیث کی موجود ہے جو تشبہ بالکفار کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

دوسری قباحت: اس دن لوگ جھوٹ بولنے کو جائز سمجھتے ہیں، جھوٹ کو اگر جھوٹ سمجھ کر بولاجائے تب بھی وہ کوئی معمولی گناہ نہیں بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، جھوٹ بولنے پر شدید وعید وارد ہوئی ہے، کاذبین پر اﷲ کی طرف سے لعنت کی گئی ہے اور کذب بیانی کو منافقین کی علامتوں میں سے ایک علامت قرار دیاگیا ہے،حدیث شریف میں ہے ”اس آدمی کے لیے ہلاکت ہو جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے”۔اور دوسری حدیث میں ہے:”کوئی بندہ پورے کا پورا ایمان کا حامل نہیں ہوگا ،جب تک جھوٹ کو بالکل ترک نہ کرے خواہ وہ ہنسی مذاق ہو، خواہ وہ لڑائی جھگڑے میں ہو۔”اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپریل فولمناتے ہیں وہ اسلام کی نظر میں ملعون ہیں اور ان پر اﷲ کی، رسولوں کی اور ساری مخلوق کی لعنت ہے اور وہ ایمان کامل کے حامل نہیں۔

تیسری قباحت:اس میں خیانت بھی ہے اور خیانت کرنا منافقین کی علامت ہے، اﷲ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے، قرآن مجید میں ہے:”اے ایمان والو! خیانت نہ کرو اﷲسے اور رسول سے اور خیانت نہ کرو آپس کی امانتوں میں جان کر۔”حدیث شریف میں ہے”یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات اس طرح کہو کہ وہ تمہیں سچا جان رہا ہو، حالانکہ  تم جھوٹ بول رہے ہو۔” رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خیانت سے پناہ مانگی ہے۔

چوتھی قباحت:اس میں دھوکا دہی بھی ہے جو کہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور شریعت مطہرہ میں حرام ہے،حدیث میں ہے:”جوشخص ہمیں(یعنی مسلمانوں کو) دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔”

پانچویں قباحت:اس میں یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف اور ایذا پہنچائی جاتی ہے اور ایذا پہنچانا مسلمان کا شیوہ نہیں، بلکہ کامل مسلمان وہ ہےکہ اس کے شر اور ایذا سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔

اسلام ایک پاکیزہ نظام اور ضابطہ حیات ہے، اس میں اس طرح کی خرافات اور رسومات کی قطعاً گنجائش نہیں، لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کی چیزوں سے بچنے کی تدبیر اور کوشش کریں اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی کوشش کریں، ساتھ ساتھ حکومت سے اپریل فولمنانے پر پابندی کا مطالبہ کریں،اﷲ تعالیٰ ہمیں شریعت کے ہر ہر حکم پر شریعت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

''عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ .'' (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب اللباس، ٣٧٥/٢، قدیمی)
''قال العلامۃ الملا علی القاري رحمہ اﷲ تعالی. '' من تشبہ نفسہ بالکفار مثلا فی اللباس وغیرہ أو بالفساق أو الفجار أو بأھل التصوف الصلحاء الأبرار''فھو منھم'' أی فی الإثم والخیر.'' ( مرقاۃ المفاتیح، کتاب اللباس، ٨/١٥٥، رشیدیہ)

''عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ رَآنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ أُرَاہُ وَعَلَیَّ ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدٌ فَقَالَ مَا ہَذَا فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُہُ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِکَ فَقُلْتُ أَحْرَقْتُہُ قَالَ أَفَلَا کَسَوْتَہُ بَعْضَ أَہْلِکَ فَإِنَّہُ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ لِلنِّسَاء .''(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب اللباس،٣٧٦، قدیمی)

''حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ۔۔ عَنْ أَبِیہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ وَیْلٌ لِلَّذِی یُحَدِّثُ فَیَکْذِبُ لِیُضْحِکَ بِہِ الْقَوْمَ وَیْلٌ لَہُ وَیْلٌ لَہُ.'' (نسآئی باب التشدید فی الکذب ٣٣٣/٢، امدادیہ)

''عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِیمَانَ کُلَّہُ حَتَّی یَتْرُکَ الْکَذِبَ فِی الْمُزَاحَۃِ وَیَتْرُکَ الْمِرَاء َ وَإِنْ کَانَ صَادِقًا.'' (مسند احمد٢/٥٦٤،٣٥٢ داراحیاء التراث)

''عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔ قَالَ آیۃ الْمُنَافِقِ ثَلَاثَۃٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ. ''(بخاری، کتاب الإیمان ١٠/١،قدیمی).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی