بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اٹیچڈ باتھ روم میں وضواور غسل کرنے کا حکم

اٹیچڈ باتھ روم میں وضواور غسل کرنے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ  ہمارے گھر میں ایک باتھ روم ہے، ہم اس میں نہاتے ہیں ساتھ ہی فلش ہے، آپ بتائیں کہ کیا ہم اس میں غسل، یا اس باتھ روم میں وضو کرسکتے ہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

جب کہ وضو کی جگہ صا ف ہو یعنی وہاں پر کوئی ایسی نجاست موجود نہ ہو کہ جس پر وضو کے پانی کے پڑنے سے چھینٹوں کا اڑ کر جسم یا کپڑوں پر پڑنے کا امکان ہو تو اس جگہ وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

"قوله: " ويكره في محل التوضؤ" لقوله صلى الله عليه وسلم: "لايبولن أحدكم في مستحمه ثم يغتسل فيه أو يتوضأ فإن عامة الوسواس منه" قال ابن ملك: لأن ذلك الموضع يصير نجساً فيقع في قلبه وسوسة بأنه هل أصابه منه رشاش أم لا اهـ حتى لو كان بحيث لايعود منه رشاش أو كان فيه منفذ بحيث لايثبت فيه شيء من البول لم يكره البول فيه؛ إذ لايجره إلى الوسوسة حينئذٍ؛ لأمنه من عود الرشاش إليه في الأول؛ ولطهر أرضه في الثاني بأدنى ماء طهور يمر عليها، كذا في شرح المشكاة".(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ،ص: 54).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی