بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انسانی بالوں کو جلانے کا حکم

انسانی بالوں کو جلانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ سر کے بالوں کو جلانا کیسا ہے؟ کیوں کہ اگر ان کو زمین میں دفن کیا جائے تو وہ گلتے نہیں ہیں بلکہ پھر نکل آتے ہیں اگر ان کو جلا کر ان کی راکھ بہا دی جائے تو ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ انسانی اعضاء قابل تکریم ہیں، لہٰذا بالوں کا جلانا بہتر نہیں، بلکہ کسی ایسی جگہ دفن کیا جائے جہاں سے دوبارہ نکلنے کا اندیشہ نہ ہو۔

لمافي الهندية:

فإذا قلّم أظفاره أوجزّ شعره، ينبغي أن يدفن ذلك الظفر والشعر المجزوز فإن رمى به فلا بأس، وإن ألقاه في «كنيف أو في المغتسل، يكره ذلك؛ لأن ذلك يورث داءً، كذا في فتاوى قاضي خان.

يدفن أربعةٌ: الظفر، والشعر، وخرقة الحيض، والدّم كذا في الفتاوى العتابية: 5/413، الباب التاسع عشر، الكراهية: دار الفكر بيروت)

وفي الشامي:

(يستحب قلم أظافيره) وقلمها بالأسنان مكروه يورث البرص، فإذا قلّم أظفاره أوجزّ شعره ينبغي أن يدفن، فإن رمى به فلا بأس، وإن ألقاه في الكنيف أو في المغتسل كره؛ لأنه يورث داءً. (9/668، فصل في البيع، كتاب الحظر والإباحة، رشيدية).فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتویٰ نمبر : 154/32