بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

N.G.R کے ساتھ کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت

N.G.R کے ساتھ کاروبار کرنے کی شرعی حیثیت

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس   مسئلہ کے بارے میں کہ(NGR ) کے ساتھ کاروبار کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

(NGR ) کے ساتھ کاروبار کرنے کی  تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے موبائل میں (NGR ) کی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنی ہوگی،اس کے بعد کم ازکم (4001) چار ہزار ایک روپیہ (NGR ) کو کاروبار کی غرض سے دیں گے،،ان چار ہزار ایک روپیہ سے (NGR ) ایک شمسی پلیٹ آپ کے نام رجسٹر کردے گی ،وہ پلیٹ آپ نے خرید لی اور اس پلیٹ سے بننے والی بجلی کے بل کی رقم آپ کو ملتی رہے گی،لیکن وہ پلیٹ  قبضہ میں نہیں دیتے ،بلکہ وہ (NGR ) کے پاس ہی رہتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہ بات یقینی بھی نہیں ہے،کہ آپ کی رقم سے پلیٹ خریدی گئی ہے،یا پھر کسی اور کام میں خرچ کی گئی ہے، اس لیے کہ (NGR ) کمپنی الیکٹرانک اشیاء بنانے کا کام کرتی ہے،اور جو رقم آپ سے  وصول کی جاتی ہے،وہ یہ تفصیل بیان کرتے ہیں،کہ ہم ان  پیسوں  سے شمسی پلیٹ لگا کر بجلی بناتے ہیں،اور ان علاقوں میں اپنی بجلی فروخت کرتے ہیں،جہاں بجلی نہیں ہوتی،مثلاً : چھوٹے چھوٹے علاقے جو پہاڑوں کے درمیان ہوتے ہیں،جہاں بجلی نہیں ہوتی،اس کے علاوہ   وہ  یہ شرط لگاتے ہیں،کہ ہر دو یا تین گھنٹے بعد(دن میں چار ،یا پانچ مرتبہ ) (NGR ) کی  ایپ کھول کر  اپنی رقم وصول کرنی ہوگی،اگر ایک یا  دو  دن  (NGR ) ایپ کھول کر رقم وصول نہ کی تو  اس ایک یا  دو  دن کی رقم ضائع ہوجائے گی،اس طرح وہ یقین دلاتے ہیں کہ آپ کا اس میں کسی طرح کا نقصان نہیں ہوگا،چاہے وہ بجلی فروخت ہو ،یا نہ ہو، بندہ کو اس کی رقم ملتی رہتی ہے،اسی طرح اس کاروبار میں پلیٹ جل جانے کا  یا کسی آفت کی وجہ سے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا ،کیونکہ ایک بار رقم ادا کرنے سے مسلسل اس رقم کا سے منافع آتا رہے گا ۔

اس کاروبار میں ایک بات یہ ہے کہ  (NGR ) وہ اس بات کی تصریح نہیں کرتے وہ اپنے اس عمل کی اجرت کتنی لیتے ہیں ،یا پھر وہ اجرت لیتے بھی ہیں ،یا نہیں ؟ اس کا یقینی علم کسی کو نہیں ، اسی طرح ایک  اور مسئلہ ہے کہ (NGR ) جو شرط لگاتی ہے کہ (NGR ) کی ایپ ہر دو گھنٹے  سے چار گھنٹے بعد کھولنی ہوگی،اس  سے (NGR ) والوں کی  طرف سےرقم  وصول ہوتی ہے جو کہ ڈالر کی صورت میں ہوتی ہے،تو اس میں اپنی رقم وصول کرنے کے لیے بھی  (NGR ) کو منافع ہوتا ہے اور یہ  لازمی بھی ہے ۔

جواب 

صورت مسئولہ میں جس NGR’’’’ایپلیکیشن  کا ذکر کیا گیا ہے جو لوگوں سے پیسہ اکھٹا کرتی ہےاور یہ پیسہ دوسرے لوگوں کو کاروبار  کرنے کے لئے دیتی ہے تو اس کمپنی کا طریقہ کار شرعی مالیاتی اصولوں کے تحت داخل نہیں ہے،بلکہ یہ قرض کا معاملہ ہےاور قرض پر نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے،اور یہ NGR’’’’ایپلیکیشن  ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام کے تحت کام کرتی ہے، اور ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام میں شرعی اعتبار سے مختلف مفاسد اور خرابیاں پائی جاتی ہیں، مثلاً غرر،دھوکہ دہی وغیرہ،اس طریقہ کار میں کمپنی کی مصنوعات کھلی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتیں،بلکہ پہلے صرف ممبران کو مصنوعات دی جاتی ہیں، ساتھ ہی کمپنی کی طرف سے اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ آپ مزید ممبر بنائیں اور کمپنی کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کریں، اس پر کمپنی آپ کو کمیشن/منافع دے گی،نتیجتاً ایسی کمپنیوں کا مقصد مصنوعات بیچنا نہیں ہوتا، بلکہ کمیشن اور منافع کا لالچ دے کر لوگوں کو کمپنی کا ممبر بنانا ہوتا ہے، اور ایک تصوراتی اور غیر حقیقی منافع کا وعدہ کر کے لوگوں کو کمپنی میں شامل کرلیا جاتا ہے۔

ملٹی لیول مارکیٹنگ پر چلنے والی کمپنیوں میں سے کسی جائز کام کرنے والی کمپنی میں بلاواسطہ کسی کو ممبر بنانے میں ممبر کی محنت کا دخل ہوتا ہے جس کی اجرت لینا جائز ہے، لیکن بغیر محنت ومشقت کے بالواسطہ بننے والے ممبروں اور ان کی خرید وفروخت کی وجہ سے ملنے والی اجرت لینا جائز نہیں،اس لیے ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام پر چلنے والی کمپنی کا ممبر بن کر ممبرسازی کرنا اور مختلف راستوں سے مالی فوائد حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں۔

اس لیے مذکورہ NGR’’’’ایپلیکیشن سے کسی قسم کا معاملہ کرنا یا  اس کا ممبر بننا جائز نہیں اور اس کے ساتھ کام کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

و في درر الحكام شرح مجلة الأحكام:

المسألة الثانية والثلاثون - كل قرض يشترط فيه منفعة فهو حرام هذا إذاكانت المنفعة مشروطة في العقد فإن لم تكن مشروطة فدفع أجود فلا بأس (الطحطاوي ).(المبحث الثاني عشر في حق المعاملة،أي في حق الإقراض و الدين،3/88،ط:دار الكتب العلمية بيروت)

وفي روح المعاني:

وقال العلامة الآ لوسي رحمة الله عليه: ومن مفاسد الميسر أن فيه أكل الأموال بالباطل وأنه يدعو كثيرا من المقامرين إلى السرقة وتلف النفس وإضاعة العيال وإرتكاب الأمور القبيحة والرذائل الشنيعة والعداوة الكامنة والظاهرة وهذا أمر مشاهد لا ينكره إلا من أعماه الله تعالى وأصمه.(2/ 115،114، دار احياء التراث العربي).

وفي الرد:

تتمة:قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم.  وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال أرجو أنه لا بأس به، وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.(كتاب الاجارة،باب ضمان اللأجير، (مطلب في أجرة الدّلاّل،9/107،ط:رشيدية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 174/56