کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر آدمی عمل سنت کی نیت سے اور ثواب سمجھ کر شروع کرے جیسا کہ مسجد میں داخل ہونے سے قبل اعتکاف کی نیت کرے، داخلے کی دعا پڑھے وغیرہ اور بعد میں آہستہ آہستہ عادت بن جائے اور پھر عادتا یہ عمل شروع ہو جائے، دھیان ہو نہ ہو، خود بخود زبان پر دعا شروع ہو جائے تو کیا ایسی صورت میں پہلے جیسا ثواب ملے گا؟؟
واضح رہے کہ اعمال دو قسم کے ہیں: بعض اعمال وہ ہیں جن کے لیے نیت شرط ہے، جیسے نماز، اعتکاف وغیرہ۔ یہ اعمال بغیر نیت کے ادا نہیں ہوں گے، نیت کریں گے تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں۔
بعض اعمال وہ ہیں جن کے لیے نیت شرط نہیں ہے، یہ اعمال بغیر نیت کے بھی ادا ہو جائیں گے، لیکن اگر نیت کریں گے تو عمل کا ثواب بھی ملے گا اور نیت کا بھی، نیت نہیں کریں گے تو عمل کا ثواب تو مل جائے گا، لیکن نیت کا ثواب نہیں ملے گا۔لما في عمدة القاري:وفي حديث عمر رضي الله عنه:’’يا أيها الناس احتسبوا أعمالكم، فإن من احتسب عمله كتب له أجر عمله وأجر حسبته.... أو المعنى: من اعتد عمله ناوياً كتب له أجر عمله وأجر نيته‘‘. (كتاب الإيمان، باب أن الأعمال بالنية الخ: 484/1، دار الكتب)وفي الأشباه:’’وإنما اشترطت النية في العبادات بالإجماع، أو بآية: وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنفاء‘‘. (الفن الأول، القاعدة الأولى: لا ثواب إلا بالنية، ص:25، قديمي).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/207