کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو سے پہلے اور درمیان میں مسنون دعائیں ہیں اور روٹین میں پڑھتے پڑھتے عادت بن جائے اور وضو کے وقت خود بخود زبان پرشروع ہو جائے۔
نہانے سے پہلے وضو کرنا سنت ہے اور اگر ایسی حالت میں آدمی کا ستر کھلا ہوا ہو اور عادتاً بسم اللہ یا دیگرکوئی دعا منہ سے نکل جائے تو کیا حکم ہے؟
ستر کھولنے کی صورت میں بسم اللہ یا دیگر دعائیں پڑھنا خلافِ ادب ہے، لہٰذا ایسے موقع پر دعائیں پڑھنے سے احتراز کیا جائے۔لما في البحر:’’ويسمي قبل الإستنجاء وبعده، هو الصحيح، إلا مع الإنكشاف وفي موضع النجاسة، كذا في الخانية‘‘.(كتاب الطهارة: 39/1، رشيدية)وفي التنوير مع الدر:’’(و) البداءة (بالتسمية) قولاً.... (قبل الإستنجاء وبعده) إلا حال انكشاف وفي محل النجاسة فيسمى بقلبه‘‘.وتحته:’’(إلا) حال انكشاف.... ولا يحرك لسانه تعظيماً لاسم الله تعالى‘‘. (كتاب الطهارة: 241/1، رشيدية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/208