کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی عورت کا نکاح کرایا جائے ادلی بدلی کے طور پر یعنی ایک آدمی اپنی بیٹی کا نکاح زید نامی شخص سے اس شرط پر کرائے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح میرے بیٹے سے کرائے گا، اور حال یہ ہے کہ ان دونوں طرفوں سے کوئی مہر طے نہ ہو تو اس طرح کا عقد کرنا شریعت مطہرہ میں کیا حکم رکھتا ہے؟
فقہ حنفی کی رو سے جہاں کہیں نکاح کے انعقاد کے وقت باقاعدہ ایجاب وقبول ہو حق مہر کے تذکرے کے بغیر کسی غیر مال کو مہر قرار دینے ، یا کوئی مجہول چیز کو حق مہر قرار دینے ، یا حق مہر کی نفی کے باجود نکاح بہرحال منعقد ہوجاتا ہے اور مہر مثل واجب ہوجاتا ہے، لہٰذا صورت مذکورہ میں نکاح منعقد ہوجائے گا اور دونوں عورتوں کے لیے مہر مثل لازم ہوگا۔لما في الدر مع الرد:’’(ووجب مهر المثل في الشغار) وهو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته، أو أخته معاوضة بالعقدين، وهو منھي عنه؛ لخلوه عن المهر، فأوجبنا فيه مهر المثل، فلم يبق شغارا‘‘. (كتاب النكاح، باب المھر، مطلب في نكاح الشغار: 228/4، رشيدية)وفي فتح القدير:’’قوله: (وإذا زوج الرجل ابنته على أن يزوجه الآخر ابنته، أو أخته؛ ليكون أحد العقدين عوضاً عن الآخر) أي: صداقا فيه، وإنما قيد به؛ لأنه لو لم يقل على أن يكون بضع كل صداقاً للأخرى، أو معناه، بل قال: زوجتك بنتي على أن تزوجني بنتك، ولم يزد عليه فقبل، جاز النكاح اتفاقا، ولا يكون شغارا، ولو زاد قوله: على أن يكون بضع بنتي صداقا لبنتك فلم يقبل الآخر بل زوجه بنته، ولم يجعلھا صداقا كان نكاح الثاني صحيحا اتفاقاً، والأول على الخلاف، ثم حكم هذا العقد عندنا صحته وفساد التسمية فيجب فيه مھر المثل‘‘. (كتاب النكاح، باب المھر: 325/3، دار الكتب العلمية).فقط.واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب.
دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی
فتوی نمبر:179/338